امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ کے باوجود البرٹا کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم آگے بڑھ رہا ہے

امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ کے باوجود البرٹا کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم آگے بڑھ رہا ہے

امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ دوبارہ شدت اختیار کرنے کے باوجود البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کی تیاریاں آگے بڑھ رہی ہیں البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے واضح کیا ہے کہ صوبے کے مستقبل کے بارے میں ووٹ کا عمل جاری رہے گا
البرٹا میں علیحدگی کی بحث کئی برس سے جاری ہے اور حالیہ عرصے میں اس تحریک میں مزید تیزی آئی ہے ریفرنڈم کے لیے شہریوں کی جانب سے مطلوبہ حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد معاملہ باضابطہ ووٹنگ کی جانب بڑھ گیا ہے۔ موجودہ منصوبے کے مطابق ریفرنڈم 19 اکتوبر 2026 کو ہونے کا امکان ہے
وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ خود البرٹا کو کینیڈا سے الگ کرنے کی حامی نہیں ہیں، تاہم انہوں نے صوبے کے شہریوں کو یہ فیصلہ کرنے کا حق دینے کی حمایت کی ہے کہ وہ کینیڈا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا علیحدگی کے سوال پر اپنی رائے دینا چاہتے ہیں
تجارتی جنگ نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے جانے کے بعد البرٹا سمیت پورے کینیڈا میں کاروباری حلقوں کو تشویش لاحق ہے۔ وزیر اعلیٰ اسمتھ نے بھی کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محصولات اور جوابی محصولات دونوں جانب کاروباری اداروں، کارکنوں اور خاندانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں
البرٹا کی معیشت خاص طور پر توانائی کے شعبے پر انحصار کرتی ہے اور صوبے کے تیل و گیس کے مفادات امریکا کے ساتھ تجارت سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اسی وجہ سے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے البرٹا کے سیاسی مستقبل کے سوال کو بھی مزید حساس بنا دیا ہے
علیحدگی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ البرٹا کو اپنی توانائی، مالی وسائل اور معاشی پالیسیوں پر زیادہ اختیار حاصل ہونا چاہیے ان کا کہنا ہے کہ صوبہ اپنے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں زیادہ آزادانہ فیصلے کرسکتا ہے
دوسری جانب علیحدگی کے مخالفین خبردار کرتے ہیں کہ کینیڈا سے الگ ہونا انتہائی پیچیدہ معاشی، قانونی اور سیاسی مسائل پیدا کرسکتا ہے سرحدوں، کرنسی، قرضوں، تجارت، توانائی کی ترسیل، مقامی باشندوں کے معاہداتی حقوق اور وفاقی اثاثوں کی تقسیم جیسے معاملات پر طویل مذاکرات کی ضرورت پڑسکتی ہے
حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں بھی علیحدگی کے حامیوں کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی اپریل 2026 کے ایک جائزے میں 27 فیصد افراد نے علیحدگی کی حمایت کی جبکہ 67 فیصد نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی
امریکا کے ساتھ موجودہ تجارتی بحران نے اس بحث میں ایک نیا پہلو ضرور شامل کردیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ کے ایسے ماحول میں البرٹا کے لیے کینیڈا سے علیحدگی کا فیصلہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے، کیونکہ صوبے کی معیشت اور توانائی کی برآمدات امریکا کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتی ہیں
اس کے باوجود علیحدگی کی تحریک سے وابستہ گروہ اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور ریفرنڈم کو البرٹا کے سیاسی مستقبل پر عوامی رائے جاننے کا اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اور کینیڈا کے اتحاد کے حامی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ موجودہ تجارتی بحران کے دوران ملک کے اندر سیاسی تقسیم کے بجائے مشترکہ معاشی اور قومی مفادات کو ترجیح دی جانی چاہیے

قومی خبریں سے مزید