امریکہ کی نئی محصولات کے جواب میں کینیڈا کا بڑا اعلان، 8 ستمبر سے امریکی اشیا پر جوابی محصولات نافذ ہوں گی
اوٹاوا: کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر نئی 50 فیصد محصولات عائد کیے جانے کے جواب میں کینیڈا بھی متعدد امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کرے گا، جو 8 ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گی
کارنی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ کئی ہفتوں سے جاری تجارتی مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ان کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات کے آخری مرحلے میں ایسی شرائط سامنے رکھی گئیں جنہیں کینیڈا نے غیر منصفانہ اور اپنے معاشی مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھا
امریکہ کی نئی 50 فیصد محصولات تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر مالیت کی کینیڈین برآمدات کو متاثر کریں گی ان میں شراب، فرنیچر، دودھ اور اس سے بنی اشیا، کپڑے، ماہی گیری کا سامان اور دیگر مصنوعات شامل ہیں
یہ محصولات کینیڈا کے لیے اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ امریکہ اس کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہر سال اربوں ڈالر کی اشیا کی تجارت ہوتی ہے
کارنی کے اعلان کے مطابق کینیڈا کی نئی جوابی محصولات مختلف امریکی شعبوں کی مصنوعات پر عائد ہوں گی۔ ان میں اسٹیل، برقی مصنوعات، گھریلو برقی آلات، دودھ اور اس سے بنی اشیا، زرعی مشینری، کاغذ اور گودا سمیت دیگر امریکی مصنوعات شامل ہوں گی
حکومت کی جانب سے ان تمام مصنوعات کی مکمل فہرست اور ہر شے پر عائد ہونے والی شرح کی تفصیلات آئندہ دنوں میں جاری کی جائیں گی
کارنی کے مطابق امریکہ اور کینیڈا کے درمیان مذاکرات کے دوران متعدد معاملات پر اختلاف برقرار رہا۔ امریکی فریق کی جانب سے بعض ایسی شرائط بھی پیش کی گئیں جن کے تحت کینیڈا کی مستقبل میں دوسرے ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت محدود ہو سکتی تھی
اس کے علاوہ درمیانے اور بھاری ٹرکوں سے متعلق امریکی شرائط بھی کینیڈا کے لیے قابل قبول نہیں تھیں۔ کارنی نے ان شرائط کو کینیڈا کے لیے غیر منصفانہ قرار دیا
کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ تجارتی اختلاف ختم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں اور کئی شعبوں میں سمجھوتے کی کوشش کی، لیکن دونوں ممالک اہم معاملات پر اتفاق نہ کر سکے
گزشتہ دنوں امریکی حکومت نے نئی محصولات کے نفاذ کو عارضی طور پر مؤخر کیا تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ تیز ہوئے تھے تاہم چند روز کی اس مہلت کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا
وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا اپنے کارکنوں، کاروباروں اور معیشت کے مفادات کا دفاع کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت امریکی محصولات سے متاثر ہونے والے کاروباری اداروں اور کارکنوں کی مدد کے لیے اضافی اقدامات کرے گی
کارنی نے یہ بھی اشارہ دیا کہ متاثرہ صنعتوں کے لیے حکومتی معاونت مختصر مدت تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ضرورت پڑنے پر کئی سال تک جاری رکھی جا سکتی ہے
امریکی محصولات کے معاملے پر کینیڈا کی وفاقی حکومت کو صوبائی رہنماؤں اور حزب اختلاف کی جانب سے بھی مجموعی طور پر حمایت حاصل ہوئی ہے سیاسی حلقوں میں یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ کینیڈا کو امریکی دباؤ کے سامنے اپنے معاشی مفادات کا دفاع کرنا چاہیے
دوسری جانب کینیڈا میں رائے عامہ کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں شہری امریکہ کے ساتھ مزید رعایتیں دینے کے حق میں نہیں ہیں
کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا اگرچہ امریکہ کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں حکومت دوسرے ممالک اور خطوں کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید مضبوط کرنے پر بھی توجہ دے گی
کینیڈا اپنی برآمدات کے لیے امریکی منڈی پر انحصار کم کرنے اور نئی تجارتی شراکت داریوں کے امکانات تلاش کرنے کی کوشش کر رہا
تازہ ترین کشیدگی نے شمالی امریکہ کے تجارتی نظام کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان موجود آزاد تجارتی معاہدے کے مستقبل اور آئندہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے
تجارتی تنازع طویل ہونے کی صورت میں بعض کینیڈین صنعتوں، برآمد کنندگان اور امریکی مصنوعات پر انحصار کرنے والے کاروباروں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے، جبکہ امریکی صارفین اور کاروباری ادارے بھی کینیڈین مصنوعات اور سپلائی چین میں آنے والی تبدیلیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں
کینیڈا کی نئی جوابی محصولات 8 ستمبر سے نافذ ہوں گی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اختلاف ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا تاہم فی الحال کسی نئے معاہدے کے امکانات غیر یقینی ہیں





