لانگ آئی لینڈ میں ٹام سوزی کے خلاف ری پبلکن مہم تیز، اسپیکر مائیک جانسن نے انہیں ’مارکسسٹ‘ قرار دے دیا

لانگ آئی لینڈ میں ٹام سوزی کے خلاف ری پبلکن مہم تیز، اسپیکر مائیک جانسن نے انہیں ’مارکسسٹ‘ قرار دے دیا

امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے لانگ آئی لینڈ میں ری پبلکن امیدوار مائیک لی پیٹری کی انتخابی مہم میں شرکت کرتے ہوئے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ٹام سوزی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ایسے ڈیموکریٹس میں شامل قرار دیا جو ان کے بقول ’’مارکسسٹ اور انتہا پسند بائیں بازو‘‘ کی سیاست کو آگے بڑھا رہے ہیں
نساؤ کاؤنٹی کے ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جانسن نے ڈیموکریٹک پارٹی پر الزام عائد کیا کہ اس میں ’’کمیونسٹ‘‘ رجحانات بڑھ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ نیویارک اس سیاسی مقابلے کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے اور ری پبلکنز کے لیے ایوان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے
جانسن نے سوزی کو خواجہ سرا کھلاڑیوں کو خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت کی حمایت، ریاستی اور مقامی ٹیکسوں کی کٹوتی کی حد میں اضافے کی حمایت اور کانگریس ارکان کی حصص کی خرید و فروخت پر پابندی کی حمایت جیسے معاملات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا
ری پبلکن امیدوار مائیک لی پیٹری نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتخابی مہم میں ’’رفتار‘‘ پیدا ہو چکی ہے اور وہ نومبر میں سوزی کو شکست دے کر نیویارک کے تیسرے کانگریسی حلقے کی نشست حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں،لی پیٹری 2024 کے عام انتخابات میں سوزی سے تقریباً 3 فیصد کے فرق سے شکست کھا چکے ہیں
یہ حلقہ سیاسی اعتبار سے ری پبلکنز کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے،اس میں ناسو اور سفک کاؤنٹیز کے علاقے اور کوئنز کے بعض حصے شامل ہیں،2026 کے انتخابات میں ٹام سوزی نے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کی جبکہ لی پیٹری نے ری پبلکن پرائمری جیت کر دوبارہ سوزی کے مقابلے میں جگہ بنائی ہے
انتخابی اجتماع میں ناسو کاؤنٹی کے ایگزیکٹو اور نیویارک کے گورنر کے لیے ری پبلکن امیدوار بروس بلیکمین بھی شریک ہوئے،انہوں نے گورنر کیتھی ہوکل اور نیویارک سٹی کے میئر زوہرن ممدانی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کے رجحان سے جوڑا
دوسری جانب ٹام
سوزی کی انتخابی مہم نے جانسن اور لی پیٹری کی مشترکہ انتخابی سرگرمی کو ری پبلکن پارٹی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے وابستگی قرار دیا،ٹام سوازی کی ترجمان کم ڈیولن نے الزام لگایا کہ لی پیٹری واشنگٹن پہنچ کر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی محض حمایت کریں گے اور اسے ’’ربڑ اسٹیمپ‘‘ کے طور پر کام کریں گے
یوں نیویارک کے تیسرے کانگریسی حلقے میں سوازی اور لی پیٹری کا مقابلہ ایک مرتبہ پھر قومی سیاسی کشمکش کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں مقامی مسائل کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ، ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو اور کانگریس میں طاقت کے توازن جیسے قومی موضوعات بھی انتخابی مہم کا حصہ بن چکے ہیں

قومی خبریں سے مزید