ٹرمپ انتظامیہ کے وزیر شان ڈفی کا ہارورڈ پر نوجوان لڑکیوں کے ذہن ’خراب‘ کرنے کا الزام، بیٹی کو یونیورسٹی بھیجنے پر تشویش ظاہر کر دی

ٹرمپ انتظامیہ کے وزیر شان ڈفی کا ہارورڈ پر نوجوان لڑکیوں کے ذہن ’خراب‘ کرنے کا الزام، بیٹی کو یونیورسٹی بھیجنے پر تشویش ظاہر کر دی

واشنگٹن: امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے ہارورڈ یونیورسٹی پر نوجوان طالبات کے ذہنوں کو مبینہ طور پر ’’خراب‘‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی نوعمر بیٹی کو یونیورسٹی بھیجنے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے،ان کا یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ اور ہارورڈ کے درمیان جاری سیاسی و نظریاتی کشمکش کے پس منظر میں سامنے آیا ہے
ڈفی کے خاندان کے امریکا بھر میں سفر پر مبنی نئی حقیقت پر مبنی ٹی وی سیریز ’’گریٹ امریکن روڈ ٹرپ‘‘ کی تمام 6 اقساط بدھ کو محکمہ ٹرانسپورٹ کے یوٹیوب چینل پر جاری کی گئیں،دوسری قسط میں ڈفی کی بیٹی پالومہ کے ہارورڈ میں داخلے کی خواہش اور والد کے تحفظات کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے
بوسٹن روانگی سے قبل بیٹی سے گفتگو میں ڈفی نے کہا کہ ہارورڈ ان کے خاندان کی قدامت پسند اور کیتھولک اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا،انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ یونیورسٹی نے یہ طریقہ ’’پیشہ ورانہ انداز میں‘‘ اختیار کر لیا ہے کہ ان جیسی اچھی اور کم عمر لڑکیوں کے ذہنوں کو تبدیل اور ’’خراب‘‘ کیسے کیا جائے
ڈفی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ہارورڈ کے درمیان مالی امداد، تعلیمی پالیسی، نظریاتی آزادی اور یونیورسٹی کے انتظامی معاملات پر شدید اختلافات جاری ہیں،ٹرمپ انتظامیہ ہارورڈ پر قدامت پسند نقطۂ نظر کے خلاف تعصب سمیت متعدد الزامات عائد کرتی رہی ہے، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے وفاقی حکومت کے کئی مطالبات کو عدالتوں میں چیلنج کیا ہے
اس سیریز کو ایک اور تنازع کا بھی سامنا ہے،ناقدین نے سوال اٹھایا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے تیار کی جانے والی اس سرکاری نوعیت کی سیریز کے لیے بعض ایسی نجی کمپنیوں سے مالی معاونت کیوں لی گئی جو شان ڈفی کے بطور وزیرِ ٹرانسپورٹ کردار کے تحت وفاقی نگرانی یا ضابطہ کاری کے دائرے میں آتی ہیں
ہارورڈ کے بارے میں ڈفی کے تبصرے نے اس وسیع تر امریکی سیاسی بحث کو بھی نمایاں کر دیا ہے جس میں قدامت پسند حلقے اعلیٰ تعلیمی اداروں پر نوجوانوں کی اقدار اور سیاسی سوچ پر اثرانداز ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں، جبکہ ترقی پسند حلقے ان الزامات کو سیاسی دباؤ اور جامعات کی علمی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں

قومی خبریں سے مزید