فلوریڈا میں ڈیموکریٹس کا بڑا اپ سیٹ، اینجی نکسن نے الیکس ونڈمین کو شکست دے کر سینیٹ کا ٹکٹ جیت لیا

فلوریڈا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ پرائمری انتخابات میں ریاستی رکنِ اسمبلی اینجی نکسن نے ایک بڑے سیاسی اپ سیٹ میں سابق فوجی افسر اور ٹرمپ مواخذہ کیس کے اہم گواہ الیکس ونڈمین کو شکست دے دی
نکسن نے تقریباً 56 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ونڈمین کو 44 فیصد ووٹ ملے،ایسوسی ایٹڈ پریس نے پولنگ ختم ہونے کے فوراً بعد نکسن کی کامیابی کا اعلان کیا
نکسن کو ڈیموکریٹک پارٹی کے نسبتاً زیادہ ترقی پسند امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جبکہ ونڈمین کو پارٹی کے زیادہ مرکزی دھارے اور بااثر حلقوں کی حمایت حاصل تھی،خاص طور پر اہم بات یہ ہے کہ نکسن نے ونڈمین کے مقابلے میں بہت کم مالی وسائل کے باوجود کامیابی حاصل کی
نکسن اب نومبر کے عام انتخابات میں ری پبلکن سینیٹر ایشلے موڈی کا مقابلہ کریں گی،موڈی نے ری پبلکن پرائمری میں تقریباً 80 فیصد ووٹ حاصل کرکے باآسانی کامیابی حاصل کی ہے
یہ مقابلہ فلوریڈا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ نکسن کی کامیابی نے پارٹی کے اندر امیدواروں کے انتخاب، انتخابی حکمتِ عملی اور ترقی پسند سیاست کی مقبولیت کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں
نکسن ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا سے وابستہ ہیں اور ان کی مہم میں صحتِ عامہ، اجرتوں میں اضافے اور ترقی پسند معاشی پالیسیوں جیسے موضوعات نمایاں رہے،ان کی کامیابی کو فلوریڈا جیسی نسبتاً قدامت پسند ریاست میں ترقی پسند دھڑے کے لیے غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے
دوسری طرف ونڈمین کو قومی سطح پر اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے مواخذے کی کارروائی میں اہم گواہی دی تھی،اس قومی شناخت کے باوجود وہ فلوریڈا کے ڈیموکریٹک ووٹروں کو نکسن کے مقابلے میں متحرک کرنے میں ناکام رہے
اب اصل امتحان نومبر میں ہوگا،ری پبلکن پارٹی فلوریڈا میں مضبوط انتخابی پوزیشن رکھتی ہے اور ایشلے موڈی اس نشست کی موجودہ سینیٹر ہیں،نکسن کی کامیابی نے اگرچہ ڈیموکریٹس کو ایک غیر متوقع امیدوار دیا ہے، لیکن سینیٹ کی نشست جیتنے کے لیے انہیں ریاست کے نسبتاً معتدل اور قدامت پسند ووٹروں تک بھی اپنی رسائی بڑھانا ہوگی
یہ خصوصی انتخاب مارکو روبیو کی خالی ہونے والی سینیٹ نشست کی بقیہ مدت مکمل کرنے کے لیے ہوگا۔ روبیو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں وزیرِ خارجہ بننے کے بعد سینیٹ سے مستعفی ہوئے تھے، جس کے بعد ایشلے موڈی کو عارضی طور پر یہ نشست دی گئی
نکسن کی کامیابی اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ نومبر میں کامیاب ہوئیں تو فلوریڈا سے امریکا کی پہلی سیاہ فام خاتون سینیٹر بن سکتی ہیں

فلوریڈا میں ڈیموکریٹس کا بڑا اپ سیٹ، اینجی نکسن نے الیکس ونڈمین کو شکست دے کر سینیٹ کا ٹکٹ جیت لیا

فلوریڈا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ پرائمری انتخابات میں ریاستی رکنِ اسمبلی اینجی نکسن نے ایک بڑے سیاسی اپ سیٹ میں سابق فوجی افسر اور ٹرمپ مواخذہ کیس کے اہم گواہ الیکس ونڈمین کو شکست دے دی
نکسن نے تقریباً 56 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ونڈمین کو 44 فیصد ووٹ ملے،ایسوسی ایٹڈ پریس نے پولنگ ختم ہونے کے فوراً بعد نکسن کی کامیابی کا اعلان کیا
نکسن کو ڈیموکریٹک پارٹی کے نسبتاً زیادہ ترقی پسند امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جبکہ ونڈمین کو پارٹی کے زیادہ مرکزی دھارے اور بااثر حلقوں کی حمایت حاصل تھی،خاص طور پر اہم بات یہ ہے کہ نکسن نے ونڈمین کے مقابلے میں بہت کم مالی وسائل کے باوجود کامیابی حاصل کی
نکسن اب نومبر کے عام انتخابات میں ری پبلکن سینیٹر ایشلے موڈی کا مقابلہ کریں گی،موڈی نے ری پبلکن پرائمری میں تقریباً 80 فیصد ووٹ حاصل کرکے باآسانی کامیابی حاصل کی ہے
یہ مقابلہ فلوریڈا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ نکسن کی کامیابی نے پارٹی کے اندر امیدواروں کے انتخاب، انتخابی حکمتِ عملی اور ترقی پسند سیاست کی مقبولیت کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں
نکسن ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا سے وابستہ ہیں اور ان کی مہم میں صحتِ عامہ، اجرتوں میں اضافے اور ترقی پسند معاشی پالیسیوں جیسے موضوعات نمایاں رہے،ان کی کامیابی کو فلوریڈا جیسی نسبتاً قدامت پسند ریاست میں ترقی پسند دھڑے کے لیے غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے
دوسری طرف ونڈمین کو قومی سطح پر اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے مواخذے کی کارروائی میں اہم گواہی دی تھی،اس قومی شناخت کے باوجود وہ فلوریڈا کے ڈیموکریٹک ووٹروں کو نکسن کے مقابلے میں متحرک کرنے میں ناکام رہے
اب اصل امتحان نومبر میں ہوگا،ری پبلکن پارٹی فلوریڈا میں مضبوط انتخابی پوزیشن رکھتی ہے اور ایشلے موڈی اس نشست کی موجودہ سینیٹر ہیں،نکسن کی کامیابی نے اگرچہ ڈیموکریٹس کو ایک غیر متوقع امیدوار دیا ہے، لیکن سینیٹ کی نشست جیتنے کے لیے انہیں ریاست کے نسبتاً معتدل اور قدامت پسند ووٹروں تک بھی اپنی رسائی بڑھانا ہوگی
یہ خصوصی انتخاب مارکو روبیو کی خالی ہونے والی سینیٹ نشست کی بقیہ مدت مکمل کرنے کے لیے ہوگا۔ روبیو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں وزیرِ خارجہ بننے کے بعد سینیٹ سے مستعفی ہوئے تھے، جس کے بعد ایشلے موڈی کو عارضی طور پر یہ نشست دی گئی
نکسن کی کامیابی اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ نومبر میں کامیاب ہوئیں تو فلوریڈا سے امریکا کی پہلی سیاہ فام خاتون سینیٹر بن سکتی ہیں

قومی خبریں سے مزید