احمد آباد سائبر فراڈ کی تحقیقات میں 4,500 سم کارڈز، چینی مال ویئر اور پاکستان سے مبینہ روابط کا انکشاف
احمد آباد: بھارت کے شہر احمد آباد میں 1.5 کروڑ بھارتی روپے کے ایک بڑے سائبر فراڈ کی تحقیقات نے ایک وسیع بین الاقوامی سائبر جرائم کے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا ہے،پولیس کے مطابق نیٹ ورک کے لیے تقریباً 4,500 سم کارڈز حاصل کیے گئے، جبکہ تحقیقات میں چین، پاکستان، بھارت اور ہانگ کانگ سے منسلک سائبر انفراسٹرکچر کے شواہد سامنے آئے ہیں
یہ معاملہ جون میں اس وقت سامنے آیا جب ایک کاروباری شخص کو واٹس ایپ کے ذریعے دھوکا دے کر 1.5 کروڑ روپے ایک بینک اکاؤنٹ میں منتقل کروا لیے گئے،جعل سازوں نے پہلے خود کو ریزرو بینک آف انڈیا کے اہلکار اور بعد میں متاثرہ شخص کی کمپنی کا اعلیٰ عہدیدار ظاہر کیاپولیس نے سائبر کرائم ہیلپ لائن پر اطلاع ملنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے لوٹی گئی رقم میں سے ایک کروڑ روپے سے زیادہ رقم واپس حاصل کرلی
تحقیقات کے دوران پولیس نے مغربی بنگال سے عمران علی پیادہ اور انجام المولّا کو گرفتار کیا،پولیس کے مطابق دونوں مبینہ طور پر سائبر جرائم پیشہ افراد کو سم کارڈز، جعلی نمبرز اور واٹس ایپ اکاؤنٹس سمیت دیگر سہولیات فراہم کرتے تھے،ایک ملزم پر الزام ہے کہ اس نے صارفین کے بائیومیٹرک ریکارڈ کا مبینہ غلط استعمال کرتے ہوئے ان کے علم کے بغیر سم کارڈز حاصل کیے
پولیس کا کہنا ہے کہ تقریباً 4,500 موبائل نمبروں سے متعلق 252 شکایات ملک کی 26 ریاستوں میں درج ہوچکی ہیں ،ان میں مالی فراڈ کے 194 مقدمات اور تین ایسے مقدمات بھی شامل ہیں جنہیں پولیس نے ’’باس اسکیم‘‘ قرار دیا ہے،دیگر شکایات سماجی ذرائع، ہیکنگ اور دوسرے سائبر جرائم سے متعلق ہیں
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ نیٹ ورک مبینہ طور پر سائبر جرائم بطور خدمت کے ماڈل پر کام کر رہا تھا، جس میں واٹس ایپ گروپس کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کو ایک مرتبہ استعمال ہونے والے تصدیقی کوڈز، سم کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی جاتی تھیں،ایک ملزم پر الزام ہے کہ اس نے مختلف آن لائن خدمات کے لیے ہزاروں تصدیقی کوڈز فروخت کیے
احمد آباد پولیس اور بھارتی سائبر کرائم کوآرڈی نیشن مرکز کی تکنیکی تحقیقات کے مطابق فراڈ میں استعمال ہونے والا مال ویئر مبینہ طور پر چینی سائبر جرائم پیشہ عناصر نے تیار کیا اور اسے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ایک کال سینٹر کے ذریعے بھارتی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا،پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ فراڈ سے منسلک بینک اکاؤنٹس تک رسائی کے لیے چین سے منسلک ایک ورچوئل نجی نیٹ ورک استعمال کیے جانے کے شواہد ملے ہیں
پولیس کے مطابق اس گروہ کا طریقۂ واردات خاص طور پر کمپنیوں کے مالی شعبوں کو نشانہ بنانے پر مبنی تھا،جعل ساز کسی اعلیٰ افسر یا کمپنی کے سربراہ کی نقالی کرتے، پھر ملازمین کو فوری طور پر رقم منتقل کرنے کی ہدایت دیتے تھے،بعض معاملات میں مبینہ طور پر نقصان دہ فائلیں واٹس ایپ کے ذریعے بھیجی گئیں، جنہیں کھولنے کے بعد حملہ آور واٹس ایپ ویب سیشن تک رسائی حاصل کرکے کمپنی کے عہدیدار کی شناخت استعمال کرسکتے تھے
احمد آباد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے اور بھارتی سائبر کرائم کوآرڈی نیشن مرکز کے ساتھ مل کر نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد، مالی لین دین اور بیرون ملک موجود سائبر انفراسٹرکچر کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ پولیس نے شہریوں اور کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والی زیپ، ای ایکس ای، ڈی ایل ایل یا اے پی کے فائلیں نہ کھولیں اور کسی اعلیٰ افسر کی جانب سے موصول ہونے والی رقم منتقلی کی ہدایت کو آزادانہ طور پر تصدیق کیے بغیر اس پر عمل نہ کریں





