امریکہ سے تجارتی مذاکرات میں رعایتیں دینے کے خلاف کینیڈین عوام کی اکثریت، سروے میں سخت مؤقف کی حمایت

امریکہ سے تجارتی مذاکرات میں رعایتیں دینے کے خلاف کینیڈین عوام کی اکثریت، سروے میں سخت مؤقف کی حمایت

اوٹاوا: کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کے اہم مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ایک نئے عوامی جائزے میں واضح اکثریت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے مزید رعایتیں نہ دے اور مذاکرات میں سخت مؤقف اختیار کرے
جائزے کے مطابق 56 فیصد کینیڈین چاہتے ہیں کہ حکومت امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں سخت رویہ اختیار کرے اور مزید کوئی رعایت نہ دے، جبکہ تقریباً ایک تہائی افراد کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بعض معاملات میں رعایت دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے
علاقائی اور صنفی اعتبار سے بھی سخت مؤقف کی حمایت نمایاں رہی کیوبیک میں 61 فیصد اور خواتین میں 60 فیصد افراد نے حکومت کو امریکہ کے سامنے مزید رعایتیں نہ دینے کی حمایت کی، جبکہ البرٹا میں یہ شرح 46 فیصد رہی جو دیگر علاقوں کے مقابلے میں سب سے کم تھی
جائزے میں یہ بھی سامنے آیا کہ بہت سے کینیڈین موجودہ حکومتی حکمت عملی کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں زیادہ سخت نہیں سمجھتے۔ 38 فیصد افراد نے حکومت کے رویے کو نرم یا غیر مؤثر قرار دیا، جبکہ 30 فیصد نے اسے متوازن قرار دیا۔ صرف 15 فیصد افراد کا خیال تھا کہ حکومت امریکہ کے سامنے جارحانہ انداز میں کینیڈا کے مفادات کا دفاع کر رہی ہے
امریکی محصولات کے جواب میں جوابی اقدامات کی حمایت بھی خاصی مضبوط دکھائی دی۔ تقریباً 75 فیصد افراد نے امریکہ کو فروخت ہونے والی بجلی پر خصوصی ٹیکس کی حمایت کی، جبکہ 70 فیصد نے امریکہ کو برآمد کیے جانے والے تیل اور قدرتی گیس پر خصوصی ٹیکس کی حمایت کی۔ اسی طرح 63 فیصد افراد نے امریکہ کو پوٹاش کی برآمدات پر خصوصی ٹیکس عائد کرنے کی حمایت کی
امریکی شراب کے معاملے میں بھی عوامی رائے سخت رہی۔ سروے میں 64 فیصد کینیڈین نے کینیڈا میں تمام امریکی شراب کی فروخت پر پابندی برقرار رکھنے کی حمایت کی۔ اس وقت متعدد صوبوں میں امریکی شراب کی فروخت پر پابندیاں پہلے ہی عائد ہیں
تاہم امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ تجارتی معاہدے کے لیے رعایتیں دینے کے سوال پر عوامی حمایت کافی کم رہی صرف 46 فیصد افراد نے امریکی فضائی کمپنیوں کو کینیڈا کی مسافر فضائی مارکیٹ تک زیادہ رسائی دینے کی حمایت کی، جبکہ 38 فیصد نے امریکی مواصلاتی کمپنیوں کے لیے زیادہ رسائی کی حمایت کی
کینیڈا کے دودھ کی مارکیٹ میں امریکی مصنوعات کی زیادہ رسائی کے معاملے میں حمایت مزید کم رہی صرف 26 فیصد افراد نے دودھ کی پیداوار اور قیمتوں کے موجودہ حفاظتی نظام میں کمی کرکے امریکی مصنوعات کو زیادہ رسائی دینے کی حمایت کی۔ اسی طرح صرف ایک چوتھائی افراد نے امریکی بینکوں کو کینیڈا کی مارکیٹ میں زیادہ رسائی دینے کی حمایت کی
یہ جائزہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تقریباً 28 ارب امریکی ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھا دی ہے۔ کینیڈین وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک اور چیف مذاکرات کار جینس چیئرٹ کئی دن سے واشنگٹن میں کسی ممکنہ معاہدے کے لیے کوشش کر رہے تھے
جائزے کے مطابق وزیراعظم مارک کارنی اور ان کی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف عوام امریکہ کے سامنے سخت مؤقف چاہتی ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت کو ایسا معاہدہ بھی کرنا ہے جو کینیڈا کی معیشت اور برآمدی شعبوں کو نئے امریکی محصولات سے بچا سکے
سروے 15 سے 17 اگست 2026 کے دوران 1,622 کینیڈین شہریوں سے آن لائن کیا گیا سروے کے طریقۂ کار کے باعث اس کے لیے روایتی معنوں میں غلطی کی شرح مقرر نہیں کی جا سکتی

قومی خبریں سے مزید