ٹرمپ انتظامیہ کے 1,000 انتخابی نگران، جمہوریت کا حفاظتی حصار یا ریاستی انتخابات میں وفاقی مداخلت؟
امریکی محکمہ انصاف نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں تقریباً 1,000 انتخابی نگران تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے,محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ ان نگرانوں کا کام ووٹنگ کے عمل میں وفاقی انتخابی قوانین کی پابندی کا جائزہ لینا، ووٹرز کے حقوق کا تحفظ کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ انتخابات آزاد، منصفانہ اور تمام شہریوں کے لیے قابل رسائی رہی،رواں سال کے پرائمری انتخابات میں محکمہ انصاف پہلے ہی 5 ریاستوں کے 200 سے زائد پولنگ مقامات پر 75 سے زیادہ نگران تعینات کر چکا ہے
محکمہ انصاف کی شہری حقوق ڈویژن کی سربراہ ہارمیت ڈھلون کے مطابق انتخابی نگرانی اس ادارے کی مستقل ذمہ داری ہے اور نومبر میں تقریباً 1,000 نگران تعینات کیے جائیں گے،ان کا کہنا ہے کہ نگران انتخابی عمل میں مداخلت نہیں کریں گے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ ووٹنگ کے دوران وفاقی قوانین کی پابندی ہو رہی ہے یا نہیں
لیکن اس اعلان نے واشنگٹن میں ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے،کیا یہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے ضروری نگرانی ہے یا وفاقی حکومت کی جانب سے ریاستوں کے انتخابی نظام پر غیر معمولی دباؤ؟
امریکی نظام میں انتخابی نگران کا تصور نیا نہیں،محکمہ انصاف کے مطابق ان کا بنیادی کام پولنگ اسٹیشن کے انتظام میں مداخلت کرنا یا ووٹرز کو روکنا نہیں بلکہ یہ مشاہدہ کرنا ہے کہ ووٹرز کے ساتھ امتیازی سلوک تو نہیں ہو رہا، معذور افراد کو مناسب سہولت مل رہی ہے، زبان کی بنیاد پر کسی ووٹر کے حقوق متاثر تو نہیں ہو رہے اور وفاقی ووٹنگ قوانین پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں
قانونی طور پر نگران انتخابات کا کنٹرول سنبھالنے والے افسر نہیں ہوتے،انتخابات کرانے کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں اور مقامی حکومتوں کے پاس رہتی ہے،امریکی انتخابی معاونت کمیشن بھی واضح کرتا ہے کہ نگران کا کام انتخابی عمل کا مشاہدہ کرنا ہے، نہ کہ ووٹر کی رازداری یا پولنگ کے عمل میں خلل ڈالنا
اسی لیے جمہوری نظام میں غیر جانب دار انتخابی نگرانی کو ایک حفاظتی طریقہ سمجھا جاتا ہے،اس کا مقصد صرف دھاندلی پکڑنا نہیں بلکہ ووٹ کے حق سے محرومی، امتیازی سلوک اور ووٹر کو ڈرانے دھمکانے کے امکانات کی نگرانی بھی ہے
ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر، الیکس پیڈیلا اور 8 دیگر سینیٹرز نے 3 اگست کو محکمہ انصاف کو خط لکھ کر انتخابی نگرانوں کے استعمال پر اعتراض نہیں بلکہ ان کے ممکنہ سیاسی استعمال پر تشویش ظاہر کی
سینیٹرز نے تسلیم کیا کہ وفاقی انتخابی نگران کئی دہائیوں سے انتخابات میں موجود رہے ہیں اور ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں انتظامیہ نے یہ پروگرام استعمال کیا ہے،ان کے مطابق یہ پروگرام عام طور پر بغیر تنازع کے چلتا رہا ہے اور ووٹرز کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے
لیکن ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامیہ کے تحت نگرانوں کی تعیناتی کا جغرافیہ سوال پیدا کر رہا ہے کیونکہ بعض ایسے علاقوں کو ترجیح دی گئی ہے جہاں ڈیموکریٹس مضبوط ہیں
سینیٹرز نے خدشہ ظاہر کیا کہ نگرانوں کو سیاسی بنیادوں پر کسی مخصوص جماعت کے زیر اثر علاقوں کو نشانہ بنانے، ووٹرز کی حوصلہ شکنی، انتخابی عمل میں مداخلت یا مقامی انتخابی حکام پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے
ورجینیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ لیمونٹ بیگبی نے بھی کہا کہ وفاقی نگرانوں کا کردار وفاقی قوانین کی پابندی یقینی بنانا ہے، لیکن اس ذمہ داری کو ریاست کے انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے
اس معاملے کو محض ایک انتظامی اقدام سمجھنا اس لیے مشکل ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت میں امریکی انتخابات کے بارے میں بارہا دھاندلی اور انتخابی بے ضابطگیوں کے دعوے کیے ہیں، جبکہ موجودہ محکمہ انصاف ریاستوں سے ووٹر فہرستوں کا وسیع ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے
اسی پس منظر میں ناقدین کو خدشہ ہے کہ 1,000 نگرانوں کی تعیناتی صرف ووٹرز کے حقوق کی نگرانی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایسے علاقوں میں وفاقی حکومت کی موجودگی بڑھے گی جہاں انتخابی مقابلہ سخت ہے
یہی وجہ ہے کہ ڈیموکریٹس کا بنیادی مطالبہ یہ نہیں کہ انتخابی نگرانی ختم کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ نگرانوں کی تعیناتی کے معیار، مقامات اور اختیارات شفاف ہوں اور کسی سیاسی جماعت کے خلاف استعمال نہ ہوں
انتخابی قانون کے ماہرین کے مطابق یہاں دو الگ سوالات کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ضروری ہے
پہلا سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات میں آزاد نگرانی ضروری ہے؟ جواب بڑی حد تک ہاں ہے،جمہوریت میں انتخابی عمل پر غیر جانب دار نظر اس لیے اہم ہوتی ہے کہ ووٹر کو یقین ہو کہ اسے نسل، زبان، معذوری یا کسی اور بنیاد پر ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا،محکمہ انصاف خود وفاقی نگرانوں کو اپنے ووٹنگ رائٹس کے نفاذ کا اہم حصہ قرار دیتا ہے
دوسرا سوال یہ ہے کہ کون نگرانی کر رہا ہے اور کس اختیار کے تحت؟ یہی موجودہ تنازع کا مرکز ہے
قانونی ماہرین کی تشویش یہ ہے کہ اگر ایک وفاقی ادارہ ایسے علاقوں میں بڑی تعداد میں نگران بھیجے جہاں کسی مخصوص سیاسی جماعت کا ووٹ زیادہ ہو اور ساتھ ہی انتظامیہ انتخابات کے بارے میں سیاسی نوعیت کے دعوے بھی کر رہی ہو تو نگرانوں کی موجودگی کا مقصد چاہے قانونی طور پر غیر جانب دار ہی کیوں نہ ہو، عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے،اسی لیے ماہرین شفاف انتخابی معیار اور واضح قانونی حدود کو بنیادی شرط قرار دے رہے ہیں
یہاں ایک اہم حقیقت ڈیموکریٹک مؤقف کے ساتھ ساتھ پیش کرنا بھی ضروری ہے،موجودہ انتخابی نگرانی کا پروگرام صرف ٹرمپ انتظامیہ نے ایجاد نہیں کیا
محکمہ انصاف کا انتخابی نگرانی پروگرام کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ 2022 کے وسط مدتی انتخابات میں بائیڈن انتظامیہ نے 22 ریاستوں میں نگران بھیجے جبکہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں 27 ریاستوں میں نگرانی کی گئی،ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس لیے موجودہ اقدام کو غیر معمولی سیاسی مداخلت قرار دینا درست نہیں
یہی ٹرمپ انتظامیہ کا سب سے مضبوط دفاع ہے،اگر ڈیموکریٹک حکومتیں انتخابی نگران بھیج سکتی ہیں تو ریپبلکن حکومت کیوں نہیں؟
لیکن موجودہ تنازع کی اہمیت تعداد سے زیادہ اعتماد میں ہے
1,000 کا عدد بظاہر بہت بڑا ہے، لیکن اسے پورے امریکی انتخابی نظام کے تناظر میں دیکھنا بھی ضروری ہے،نگران ملک کے ہر پولنگ اسٹیشن پر موجود نہیں ہوں گے اور ان کا کردار انتخابی عمل سنبھالنا نہیں ہوگا
اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ کن اضلاع میں جائیں گے، وہاں کیا دیکھیں گے، کس کو رپورٹ کریں گے اور ان کی موجودگی کو مقامی انتخابی حکام اور ووٹرز کس طرح محسوس کریں گے
جمہوریت میں انتخابات صرف ووٹ ڈالنے سے نہیں بلکہ عوام کے اس اعتماد سے مضبوط ہوتے ہیں کہ ووٹ صحیح طریقے سے شمار ہوگا اور ریاستی ادارے کسی جماعت کے حق یا مخالفت میں استعمال نہیں ہوں گے
چنانچہ انتخابی نگران جمہوریت کے لیے ایک حفاظتی دیوار بن سکتے ہیں، لیکن اگر یہی نگران کسی سیاسی مقصد کے لیے استعمال ہونے کا تاثر پیدا کریں تو وہی دیوار عوام کے اعتماد میں دراڑ کا سبب بھی بن سکتی ہے
اسی لیے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں اصل امتحان صرف یہ نہیں ہوگا کہ 1,000 نگران کیا دیکھتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہوگا کہ امریکی عوام ان نگرانوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں: ووٹ کے محافظ کے طور پر یا واشنگٹن کی سیاسی طاقت کے نمائندوں کے طور پر





