Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

اے آئی نے ملازمین کی پیداواری صلاحیت بڑھا دی، پھر کمپنیوں کی کارکردگی کیوں نہیں بہتر ہوئی؟

اے آئی نے ملازمین کی پیداواری صلاحیت بڑھا دی، پھر کمپنیوں کی کارکردگی کیوں نہیں بہتر ہوئی؟

مصنوعی ذہانت نے دفتری اور ڈیجیٹل شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین کی انفرادی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، لیکن اس اضافے کا مجموعی کاروباری کارکردگی میں وہ اثر دکھائی نہیں دے رہا جس کی توقع کی جا رہی تھی
گلیِن ورک اے آئی انسٹی ٹیوٹ کے ورک اے آئی انڈیکس کے لیے 6,000 ڈیجیٹل ملازمین سے کیے گئے سروے کے مطابق 75 فیصد کارکنوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ان کی پیداواری صلاحیت بہتر کی ہے،سروے میں شامل ملازمین کے مطابق اے آئی اوسطاً ہر ہفتے تقریباً 11 گھنٹے کا کام خودکار بنا رہی ہے
اس کے باوجود صرف 13 فیصد ملازمین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے ان کی تنظیم کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے
یہ فرق اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر ملازمین ہر ہفتے کئی گھنٹے بچا رہے ہیں تو وہ اضافی وقت آخر کہاں جا رہا ہے
تحقیق کے مطابق اس کا ایک بڑا سبب “کوآرڈینیشن نیگلیکٹ” یعنی باہمی رابطے اور کاموں میں ہم آہنگی کو نظر انداز کرنا ہے،اے آئی کسی ایک ملازم کا کام تیزی سے مکمل کر سکتی ہے، لیکن کمپنی کے اندر مختلف افراد، ٹیموں اور شعبوں کے درمیان فیصلوں، منظوریوں، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کام کے پیچیدہ مراحل خود بخود ختم نہیں ہوتے
چنانچہ ایک ملازم رپورٹ، تجزیہ یا پیشکش چند گھنٹوں کے بجائے چند منٹ میں تیار کر سکتا ہے، لیکن اسے دوسرے شعبے سے معلومات حاصل کرنے، مینیجر کی منظوری لینے، میٹنگ میں شرکت کرنے یا دوسرے ملازمین کے ساتھ فیصلے پر اتفاق کرنے میں وہی وقت یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے
یہ صورتحال کاروباری اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت کی اصل آزمائش کو بھی واضح کرتی ہے،صرف ملازمین کو اے آئی کے اوزار فراہم کرنا کافی نہیں،اگر کمپنی کے پرانے انتظامی طریقے، غیر ضروری میٹنگز، پیچیدہ منظوری کے مراحل اور مختلف شعبوں کے درمیان رابطے کی رکاوٹیں برقرار رہیں تو انفرادی سطح پر حاصل ہونے والی رفتار مجموعی کارکردگی میں تبدیل نہیں ہو گی
ماہرین کے مطابق کمپنیوں کو اے آئی کو محض وقت بچانے والی ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھنے کے بجائے اپنے پورے کام کرنے کے طریقۂ کار کو ازسرنو ترتیب دینا ہوگا،اس میں ذمہ داریوں کی تقسیم، فیصلہ سازی، ٹیموں کے درمیان رابطے اور کام کے بہاؤ کو اے آئی کے نئے امکانات کے مطابق تبدیل کرنا شامل ہے
یوں مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور کا ایک بڑا کاروباری تضاد سامنے آ رہا ہے،ملازمین زیادہ تیزی سے کام کر رہے ہیں، لیکن اگر ادارے اسی پرانے انداز میں کام کرتے رہے تو وہ تیزی کمپنی کی مجموعی کارکردگی میں تبدیل نہیں ہو گی

قومی خبریں سے مزید