امریکا کی بڑی برگر چین وینڈیز کی درجہ بندی گر گئی، سی ای او نے ’معیار میں کمی‘ کو ذمہ دار قرار دے دیا۔
امریکا میں فاسٹ فوڈ برگر مارکیٹ کی بڑی کمپنی وینڈیز کو مسلسل گرتی ہوئی فروخت اور صارفین کی آمدورفت کے بعد ایک بڑا دھچکا لگا ہے،کمپنی نے 6 مسلسل سہ ماہیوں میں فروخت میں کمی کے بعد امریکا کی دوسری بڑی برگر چین کا اعزاز کھو دیا ہے اور برگر کنگ نے 6 سال بعد دوبارہ نمبر 2 پوزیشن حاصل کر لی ہے
وینڈیز نے 2026 کے دوران پہلے ہی سیکڑوں ریستوران بند کیے ہیں اور اپنے منافع میں بھی کمی کی ہے،اب کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن میں یہ تازہ گراوٹ اس کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ بن گئی ہے
فاسٹ کمپنی کے مطابق وینڈیز کی گرتی ہوئی کارکردگی کے پیچھے ناشتے کے محدود ہوتے مینو سے لے کر کمزور ہوتی تشہیری حکمتِ عملی تک کئی عوامل کارفرما ہیں،کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ’’معیار میں کمی‘‘ کو قرار دیا ہے
2026 کی دوسری سہ ماہی میں وینڈیز کی ایک ہی مقام پر فروخت میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ اسی عرصے میں برگر کنگ کی ایک ہی مقام پر فروخت 8.5 فیصد بڑھ گئی،فروخت میں اس واضح فرق نے دونوں کمپنیوں کی مارکیٹ پوزیشن تبدیل کر دی
برگر کنگ نے 2020 میں دوسری پوزیشن وینڈیز کے ہاتھوں کھو دی تھی، تاہم 6 سال بعد اس نے دوبارہ یہ مقام حاصل کر لیا ہے
اس کے باوجود دونوں کمپنیاں امریکا کی سب سے بڑی برگر چین میک ڈونلڈز سے کافی پیچھے ہیں،2024 کے اعداد و شمار کے مطابق میک ڈونلڈز کے پاس امریکی برگر مارکیٹ کا تقریباً 48 فیصد حصہ تھا، جبکہ وینڈیز کا حصہ 11.4 فیصد اور برگر کنگ کا 10 فیصد تھا
وینڈیز کے لیے سب سے بڑا سوال اب یہ ہے کہ کیا وہ معیار، مینو، تشہیری حکمتِ عملی اور صارفین کے اعتماد میں بہتری لا کر دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی مارکیٹ پوزیشن حاصل کر سکتی ہے، یا برگر کنگ کی واپسی امریکی فاسٹ فوڈ مارکیٹ میں ایک مستقل تبدیلی ثابت ہوگی





