خیبر پختونخوا میں اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کے لیے نیا منصوبہ شروع
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کرکے انہیں دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، بلدیاتی حکومت، انتخابات و دیہی ترقی، صحت اور سماجی بہبود کے محکموں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے نظام میں واپس لانا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق درست اعداد و شمار، مختلف محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ اور قابل عمل منصوبہ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہیں
منصوبے کے تحت صوبے بھر میں گھر گھر سروے کیا جائے گا تاکہ اسکول سے باہر بچوں کی اصل تعداد، ان کے رہائشی علاقوں اور تعلیم سے دور رہنے کی وجوہات کا درست تعین کیا جاسکے
اس مقصد کے لیے ون میپ کے نام سے ایک مشترکہ معلوماتی نظام بنایا جائے گا، جس میں مختلف سرکاری محکموں سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کیا جائے گا۔ اس نظام کے ذریعے بچوں کی نشاندہی، داخلوں کی منصوبہ بندی اور تعلیمی وسائل کی بہتر تقسیم میں مدد ملے گی
حکام کے مطابق 2023 کی مردم شماری میں صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر بتائے گئے تھے، جبکہ صوبائی محکمہ تعلیم کا تخمینہ تقریباً 26 لاکھ بچوں کا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں نشاندہی کیے جانے والے بچوں میں سے 60 فیصد کو اسکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے
محکمہ صحت دور دراز اور پسماندہ آبادیوں میں موجود بچوں کی نشاندہی میں مدد کرے گا، جبکہ مقامی حکومت پیدائش کے اندراج اور دیگر سرکاری ریکارڈ کی مدد سے سروے کے اعداد و شمار کی تصدیق کرے گی
غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم بچوں کے لیے سماجی بہبود کا محکمہ وظائف، مالی معاونت اور دیگر سہولتیں فراہم کرے گا۔ معذور بچوں کے لیے معاون آلات کی فراہمی بھی منصوبے کا حصہ ہوگی
14 سے 16 سال کی عمر کے ایسے نوجوانوں کو، جو روایتی اسکول میں واپس آنے کے بجائے ہنر سیکھنے کے خواہش مند ہوں، فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع سے بھی منسلک کیا جائے گا
حکومت ضرورت کے مطابق سرکاری اسکولوں، دوہری شفٹ والے اسکولوں، تیز رفتار تعلیمی پروگراموں، کمیونٹی اسکولوں، آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم اور دیگر متبادل تعلیمی طریقوں سے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے
شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سروے کے کم از کم پانچ فیصد اعداد و شمار کی آزاد ادارے کے ذریعے زمینی سطح پر دوبارہ جانچ بھی کی جائے گی۔ وظائف اور مالی معاونت کو کم از کم 75 فیصد حاضری سے منسلک کیا جائے گا تاکہ بچے صرف داخل نہ ہوں بلکہ باقاعدگی سے تعلیم بھی جاری رکھیں





