لال قلعے پر مودی کا بندھنی صافہ، صدیوں پرانی دستکاری اور بھارتی ثقافت کی علامت
نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے پر ایک بار پھر روایتی بندھنی صافہ پہن کر اپنی تقریباً ہر سال دہرائی جانے والی ثقافتی روایت برقرار رکھی،رنگ برنگے نقطوں اور مخصوص نقش و نگار والے اس کپڑے کے پیچھے صدیوں پرانی دستکاری اور گجرات سمیت مغربی بھارت کی گہری ثقافتی تاریخ موجود ہے
بندھنی دراصل کپڑے کو مخصوص مقامات پر دھاگے سے مضبوطی سے باندھ کر اسے رنگنے کی قدیم تکنیک ہے،کپڑا کھولنے کے بعد بندھے ہوئے مقامات پر رنگ نہیں پہنچتا اور یوں اس پر چھوٹے چھوٹے نقطوں اور پیچیدہ نقش و نگار کا منفرد انداز نمودار ہوتا ہے
یہ دستکاری خصوصاً گجرات اور راجستھان میں صدیوں سے رائج رہی ہے،گجرات کے کاریگروں نے بندھنی کو مختلف رنگوں اور ڈیزائنوں کے ذریعے ایک منفرد شناخت دی، جبکہ وقت کے ساتھ یہ کپڑا شاہی ملبوسات، شادی بیاہ کی تقریبات اور علاقائی ثقافتی شناخت کا حصہ بن گیا
بندھنی صافہ اور پگڑیاں بھی مغربی بھارت کی روایتی پوشاک کا اہم حصہ رہی ہیں،مختلف رنگ اور نقش بعض علاقوں، برادریوں اور مواقع کے ساتھ مخصوص سمجھے جاتے ہیں،شادیوں اور تہواروں میں بندھنی کے ملبوسات آج بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں
مودی گزشتہ کئی برسوں سے یومِ آزادی کے موقع پر اپنے لباس کے ذریعے بھارت کے مختلف علاقوں کی ثقافتی روایات کو نمایاں کرتے رہے ہیں،ان کے صافوں میں مختلف ریاستوں کے روایتی رنگ، کپڑے اور ڈیزائن دیکھنے کو ملتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا یومِ آزادی کا لباس ہر سال ایک الگ ثقافتی پیغام بھی بن جاتا ہے
اس سال بندھنی صافے کا انتخاب بھی اسی روایت کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے،تاہم اس لباس کی اہمیت محض سیاسی یا علامتی نہیں، بلکہ یہ ان کاریگروں کی صدیوں پرانی مہارت کی نمائندگی کرتا ہے جنہوں نے ہاتھ سے کپڑا باندھنے اور رنگنے کی تکنیک کو نسل در نسل محفوظ رکھا ہے





