کیا مردوں میں تنہائی کا بحران محض ایک مفروضہ ہے؟ اعداد و شمار ایک مختلف مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں
مردوں میں تنہائی کے بحران کے بارے میں جاری بحث میں نئے اعداد و شمار اس تصور کو پیچیدہ بنا رہے ہیں کہ امریکا میں تنہائی بنیادی طور پر مردوں کا مسئلہ ہے,تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرد اور خواتین مجموعی طور پر تنہائی کی تقریباً یکساں شرح رپورٹ کرتے ہیں، تاہم مردوں کے سماجی تعلقات کی نوعیت اور ان کے سماجی نیٹ ورک میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے
حالیہ جائزوں کے مطابق تقریباً 16 فیصد مرد اور 15 فیصد خواتین کہتے ہیں کہ وہ ہر وقت یا زیادہ تر وقت تنہائی یا سماجی تنہائی محسوس کرتے ہیں، یعنی مجموعی فرق شماریاتی اعتبار سے نمایاں نہیں
تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مردوں کے سماجی حلقے بعض صورتوں میں خواتین کے مقابلے میں کم مضبوط اور کم متنوع ہوتے ہیں ،تحقیق کے مطابق مرد کسی رومانوی ساتھی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، جبکہ دوستوں سے ذاتی مسائل پر مدد لینے کا امکان نسبتاً کم ہوتا ہے،چنانچہ شریک حیات سے علیحدگی یا غیر شادی شدہ رہنے کی صورت میں بعض مردوں کے پاس جذباتی سہارا حاصل کرنے کے متبادل ذرائع کم رہ جاتے ہیں
ایک اور اہم پہلو طبقاتی فرق ہے،تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم اور معاشی حیثیت تنہائی پر جنس سے زیادہ اثر ڈال سکتی ہے،کالج کی ڈگری نہ رکھنے والے امریکیوں میں قریبی دوست نہ ہونے کا امکان کالج گریجویٹس کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے، اور اس صورتحال سے مرد خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں،
نوجوان مردوں کے بارے میں حالیہ تحقیق بھی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ 18 سے 29 سال کے 2,000 مردوں کے سروے میں بڑی اکثریت نے اچھی ملازمت، شادی اور والد بننے کی خواہش ظاہر کی، لیکن بہت سے نوجوانوں نے معاشی مشکلات، رومانوی تعلقات قائم کرنے میں دشواری اور مستقبل کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا،تقریباً نصف نوجوان مردوں کا کہنا تھا کہ امریکی خواب ان کے لیے قابل حصول نہیں رہا
اس لیے ماہرین کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ صرف مرد تنہا ہو رہے ہیں، بلکہ جدید معاشرے میں سماجی تعلق، معاشی مواقع، دوستی اور مقصدِ زندگی کے کمزور ہوتے رشتے ایک وسیع تر بحران پیدا کر رہے ہیں،مردوں میں اس بحران کی کچھ شکلیں مختلف ضرور ہیں، مگر اسے صرف ’’مردوں کی تنہائی‘‘ قرار دینا اعداد و شمار کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا





