چین کے ساتھ بڑھتے تجارتی خسارے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اظہار تشویش

چین کے ساتھ بڑھتے تجارتی خسارے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اظہار تشویش

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے چین اور دیگر آزاد تجارتی معاہدے والے ممالک کے ساتھ پاکستان کے مسلسل بڑھتے تجارتی خسارے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے
کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تجارتی عدم توازن کی بنیادی وجوہات کا جامع جائزہ لیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ اور درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس محمد جاوید حنیف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں ٹیرف اصلاحات، برآمدات کے فروغ، اہم تجارتی اداروں کی کارکردگی اور بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا گیا
کمیٹی نے چین کے علاوہ ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساتھ بھی پاکستان کے تجارتی خسارے کی تفصیلات طلب کیں۔ وزارت تجارت کو ہدایت کی گئی کہ ان ممالک کے ساتھ تجارتی عدم توازن کی وجوہات اور اسے کم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے
اجلاس میں سندھ کے سائنڈک منصوبے اور معدنیات کی برآمدات سے متعلق معلومات بھی طلب کی گئیں۔ کمیٹی نے کہا کہ ان تفصیلات کی مدد سے یہ جائزہ لیا جائے گا کہ پاکستان اپنے معدنی وسائل سے مناسب معاشی فائدہ حاصل کر رہا ہے یا نہیں
اجلاس کے دوران یکم جنوری 2027 سے متوقع جی ایس پی پلس اسکیم کے بارے میں بھی کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ وزارت تجارت نے اسکیم کے ممکنہ عبوری دور اور ضروری شرائط سے متعلق معلومات فراہم کیں
کمیٹی کے چیئرمین نے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ پاکستان کی جی ایس پی پلس کے لیے تیاری، اس سے حاصل ہونے والے مواقع، ممکنہ مشکلات اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے
کمیٹی نے برآمدی ترقیاتی فنڈ، جی ایس پی پلس، چین، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساتھ تجارتی خسارے اور معدنیات کی برآمدات سے متعلق جامع رپورٹس بھی طلب کر لی ہیں
حکام کے مطابق کمیٹی کا مقصد پاکستان کی تجارتی پالیسی کا جائزہ لے کر برآمدات بڑھانے، نئے تجارتی مواقع پیدا کرنے اور مختلف ممالک کے ساتھ موجود تجارتی عدم توازن کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کرنا ہے۔

قومی خبریں سے مزید