جین زی کی بغاوت سڑکوں سے نکل کر پورے بھارت میں پھیلانے کی کوشش، نیہا بورا کا ملک گیر سفر کیا واقعی نئی سیاست کی بنیاد بن رہا ہے؟

جین زی کی بغاوت سڑکوں سے نکل کر پورے بھارت میں پھیلانے کی کوشش، نیہا بورا کا ملک گیر سفر کیا واقعی نئی سیاست کی بنیاد بن رہا ہے؟

بھارت میں جولائی کے دوران نئی دہلی کے جنتر منتر پر اٹھنے والی طلبہ تحریک اب دارالحکومت کی سڑکوں تک محدود نہیں رہی،آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر پچیس سالہ نیہا بورا نے ملک کے مختلف شہروں کا دورہ شروع کر کے اس احتجاج کو ایک وسیع نوجوان سیاسی مہم میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا نام ’’جین زی رائزنگ‘‘ رکھا گیا ہے
یہ مہم 7 اگست کو رانچی سے شروع ہوئی اور اس کا اعلان ایک ماہ تک جاری رہنے والی ملک گیر مہم کے طور پر کیا گیا ہے،نیہا بورا کا منصوبہ صرف بڑے شہروں میں جلسے کرنا نہیں بلکہ طلبہ اور نوجوانوں سے براہ راست رابطہ قائم کرنا، تعلیمی نظام، روزگار، داخلہ امتحانات اور نوجوانوں کے مستقبل کے سوالات کو ایک وسیع سیاسی تحریک میں تبدیل کرنا ہے
مہم کے پہلے مرحلے میں 11 اگست کو کولکاتا، 14 اگست کو جے پور، 16 اور 17 اگست کو حیدرآباد، 18 اگست کو وجے واڑہ، 20 اگست کو چنئی، 22 اگست کو کوژیکوڈ، 23 اگست کو بنگلورو، 25 اگست کو ممبئی، 26 اگست کو پونے، 27 اگست کو ناگپور اور 29 اگست کو بھوبنیشور میں پروگرام مقرر کیے گئے ہیں،بہار، اترپردیش، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب اور ہریانہ کے دوروں کا پروگرام بعد میں جاری کیا جائے گا
یہ رفتار اس لیے قابل توجہ ہے کہ صرف چند ہفتے پہلے نیہا بورا قومی سطح پر زیادہ تر ایک طلبہ رہنما کے طور پر جانی جاتی تھیں،اب وہ ایک ایسے نوجوان سیاسی مزاج کی علامت بن رہی ہیں جو روایتی جماعتوں سے باہر رہ کر بھی قومی سیاست پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے
جولائی میں نیٹ کے امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مطالبات کے حوالے سے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج نے نیہا بورا کو قومی سطح پر نمایاں کیا،انہوں نے 23 روز تک بھوک ہڑتال کی اور ان کا نام اس تحریک کے نمایاں چہروں میں شامل ہوگیا،بھارتی میڈیا نے ان کی تقریروں، احتجاجی سرگرمیوں اور ان کی سیاسی موجودگی کو مسلسل نمایاں کیا
اس تحریک کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسے کسی روایتی انتخابی جماعت کے طور پر سمجھنا ابھی درست نہیں ہوگا “کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نام دراصل اسی احتجاجی ماحول میں ایک طنزیہ سیاسی شناخت کے طور پر ابھرا،نیہا بورا خود آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر ہیں، جو بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ہے،تاہم جنتر منتر کی تحریک میں مختلف طلبہ اور سیاسی رجحانات کے نوجوانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا
یہی چیز اس تحریک کو روایتی بائیں بازو کی سیاست سے کچھ مختلف بناتی ہے
دی وائر کے ایک تفصیلی مشاہداتی مضمون میں جنتر منتر کے احتجاج کو محض ایک تنظیم کی تحریک کے بجائے مختلف نوجوان سیاسی رجحانات کے ملاپ کے طور پر بیان کیا گیا ہے ، اس میں نیہا بورا کو ان نوجوان رہنماؤں میں شمار کیا گیا جو احتجاج کے دوران انتظام، رابطہ کاری اور مختلف گروہوں کو ساتھ رکھنے میں نمایاں رہیں،مضمون کے مطابق احتجاج میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن، امبیڈکر وادی کارکنوں اور نئے ’’کاکروچ‘‘ گروپ کے نوجوانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا
لیکن اب اصل امتحان شروع ہوا ہے
احتجاج کرنا اور ملک بھر میں نوجوانوں کو مستقل سیاسی قوت میں تبدیل کرنا دو بالکل مختلف کام ہیں
جنتر منتر پر ایک مشترکہ غصہ موجود تھا،امتحانی نظام پر عدم اعتماد، نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع، تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت کے الزامات اور حکومت سے بڑھتی ہوئی بے چینی،لیکن جب یہی نوجوان مختلف شہروں میں منتشر ہوں گے تو سوال یہ ہوگا کہ کیا یہ غصہ کسی مستقل تنظیمی ڈھانچے، واضح سیاسی پروگرام اور انتخابی اثر میں تبدیل ہو سکتا ہے؟
نیہا بورا کا ’’جین زی رائزنگ‘‘ دورہ اسی سوال کا پہلا بڑا تجربہ ہے
کلکتہ میں 11 اگست کو ان کا پیغام واضح تھا،انہوں نے نیٹ کے امتحانی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے باصلاحیت طلبہ کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے،انہوں نے مغربی بنگال میں طلبہ یونین انتخابات نہ کرانے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا
یہاں سے ان کی سیاست کا دائرہ بھی واضح ہونے لگتا ہے،وہ صرف نیٹ یا کسی ایک امتحان کی اصلاح کی بات نہیں کر رہیں بلکہ تعلیم، روزگار، نوجوانوں کی نمائندگی اور سیاسی آزادی کو ایک ہی بڑے سوال میں جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں
ان کی مہم کے مطالبات میں قومی امتحانی ایجنسی کے خاتمے، نئی تعلیمی پالیسی واپس لینے، معیاری تعلیم تک وسیع رسائی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع جیسے مطالبات شامل ہیں
لیکن ان کے سامنے ایک بنیادی رکاوٹ بھی ہے
بھارت کی قومی سیاست میں نوجوانوں کا غصہ کوئی نئی چیز نہیں،مختلف ادوار میں طلبہ تحریکوں نے بڑے سیاسی رہنما پیدا کیے ہیں، لیکن ہر احتجاج ایک مستقل سیاسی تحریک نہیں بن سکا،بہت سی تحریکیں ایک مخصوص واقعے، حکومت مخالف جذبات یا کسی فوری مطالبے کے گرد جمع ہوئیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ منتشر ہوگئیں
نیہا بورا کے معاملے میں فرق یہ ہے کہ وہ پہلے ہی ایک منظم طلبہ تنظیم کی سربراہ ہیں اور ان کے پیچھے ایک موجودہ تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے،اس کے علاوہ جنتر منتر کے احتجاج نے انہیں ایسے نوجوانوں کے ایک وسیع حلقے سے متعارف کرایا جو لازماً آئیسا کے رکن نہیں تھے
یہی ان کی طاقت بھی ہے اور سب سے بڑا خطرہ بھی
اگر وہ صرف بائیں بازو کے روایتی سیاسی حلقے تک محدود رہیں تو ان کی قومی رسائی محدود ہو سکتی ہے،لیکن اگر وہ مختلف نظریات رکھنے والے نوجوانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئیں تو ان کی سیاست بھارتی نوجوانوں میں ایک نئی قسم کی اپوزیشن سیاست کو جنم دے سکتی ہے
ان کے سفر کا استقبال بھی اسی سوال کا ابتدائی جواب دے گا
رانچی سے شروع ہونے والی مہم اب کلکتہ پہنچ چکی ہے اور اس کے بعد بھارت کے کئی بڑے تعلیمی اور شہری مراکز میں جانے والی ہے،ابھی تک دستیاب رپورٹنگ میں اس مہم کو ایک بڑے انتخابی جلسہ سلسلے کے بجائے طلبہ اور نوجوانوں سے رابطے کی ملک گیر مہم کے طور پر پیش کیا گیا ہے
یہ فرق اہم ہے
نیہا بورا ابھی کسی قومی انتخاب کی امیدوار نہیں ہیں،ان کی کوئی انتخابی جماعت نہیں، پارلیمانی نشست نہیں اور نہ ہی ان کے پاس یہ ثابت کرنے کا انتخابی ریکارڈ ہے کہ وہ احتجاجی مقبولیت کو ووٹ میں تبدیل کر سکتی ہیں،
مگر سیاست ہمیشہ انتخابات سے شروع نہیں ہوتی
کبھی کبھی سیاست پہلے زبان تبدیل کرتی ہے، پھر بحث کا موضوع، پھر نسل کی سیاسی نفسیات اور آخر میں ووٹ کا رویہ
جنتر منتر پر نیہا بورا نے جو مقام حاصل کیا، وہ اسی ابتدائی مرحلے کی علامت ہے،ان کے گرد بننے والی نوجوانوں کی سیاست ابھی اتنی بڑی نہیں کہ اسے بھارتی سیاسی نظام کے لیے فوری خطرہ قرار دیا جائے،لیکن اسے نظر انداز کرنا بھی آسان نہیں ہوگا
خاص طور پر اس لیے کہ بھارتی سیاست میں ایک پوری نوجوان نسل ایسے مسائل کے ساتھ بالغ ہو رہی ہے جن کا تعلق براہ راست اس کی روزمرہ زندگی سے ہے،تعلیم کتنی مہنگی ہے، داخلہ امتحان کتنا قابل اعتماد ہے، ڈگری کے بعد روزگار کہاں ہے، اور کیا نوجوانوں کو اپنی حکومت کے فیصلوں میں واقعی کوئی آواز حاصل ہے؟
نیہا بورا کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ ان سوالات کو ایک جذباتی احتجاج سے آگے لے جا کر ایک ایسا سیاسی تصور بنا سکتی ہیں یا نہیں جس میں احتجاج کے بعد بھی لوگ ساتھ رہیں
اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو ’’جین زی رائزنگ‘‘ محض ایک دورہ نہیں رہے گا
یہ بھارت کی نوجوان سیاست کے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے
اور اگر یہ مہم صرف جنتر منتر کے غصے کو مختلف شہروں تک پہنچانے تک محدود رہ گئی، تو ممکن ہے چند ماہ بعد اس کا ذکر بھی ان بہت سی احتجاجی تحریکوں کی طرح تاریخ کے ایک مختصر باب کے طور پر رہ جائے جو لمحہ بھر کے لیے قومی سیاست کو ہلا تو دیتی ہیں، مگر اسے بدل نہیں پاتیں
فی الحال سب سے اہم بات یہی ہے،نیہا بورا کے پاس مقبولیت کا ابتدائی سرمایہ موجود ہے، نوجوانوں کا ایک متحرک حلقہ موجود ہے اور ملک گیر مہم کا موقع بھی،اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس توانائی کو تنظیم، نظریے اور بالآخر سیاسی طاقت میں تبدیل کر پاتی ہیں یا نہیں

جین زی کی بغاوت سڑکوں سے نکل کر پورے بھارت میں پھیلانے کی کوشش، نیہا بورا کا ملک گیر سفر کیا واقعی نئی سیاست کی بنیاد بن رہا ہے؟

بھارت میں جولائی کے دوران نئی دہلی کے جنتر منتر پر اٹھنے والی طلبہ تحریک اب دارالحکومت کی سڑکوں تک محدود نہیں رہی،آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر پچیس سالہ نیہا بورا نے ملک کے مختلف شہروں کا دورہ شروع کر کے اس احتجاج کو ایک وسیع نوجوان سیاسی مہم میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا نام ’’جین زی رائزنگ‘‘ رکھا گیا ہے
یہ مہم 7 اگست کو رانچی سے شروع ہوئی اور اس کا اعلان ایک ماہ تک جاری رہنے والی ملک گیر مہم کے طور پر کیا گیا ہے،نیہا بورا کا منصوبہ صرف بڑے شہروں میں جلسے کرنا نہیں بلکہ طلبہ اور نوجوانوں سے براہ راست رابطہ قائم کرنا، تعلیمی نظام، روزگار، داخلہ امتحانات اور نوجوانوں کے مستقبل کے سوالات کو ایک وسیع سیاسی تحریک میں تبدیل کرنا ہے
مہم کے پہلے مرحلے میں 11 اگست کو کولکاتا، 14 اگست کو جے پور، 16 اور 17 اگست کو حیدرآباد، 18 اگست کو وجے واڑہ، 20 اگست کو چنئی، 22 اگست کو کوژیکوڈ، 23 اگست کو بنگلورو، 25 اگست کو ممبئی، 26 اگست کو پونے، 27 اگست کو ناگپور اور 29 اگست کو بھوبنیشور میں پروگرام مقرر کیے گئے ہیں،بہار، اترپردیش، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب اور ہریانہ کے دوروں کا پروگرام بعد میں جاری کیا جائے گا
یہ رفتار اس لیے قابل توجہ ہے کہ صرف چند ہفتے پہلے نیہا بورا قومی سطح پر زیادہ تر ایک طلبہ رہنما کے طور پر جانی جاتی تھیں،اب وہ ایک ایسے نوجوان سیاسی مزاج کی علامت بن رہی ہیں جو روایتی جماعتوں سے باہر رہ کر بھی قومی سیاست پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے
جولائی میں نیٹ کے امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مطالبات کے حوالے سے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج نے نیہا بورا کو قومی سطح پر نمایاں کیا،انہوں نے 23 روز تک بھوک ہڑتال کی اور ان کا نام اس تحریک کے نمایاں چہروں میں شامل ہوگیا،بھارتی میڈیا نے ان کی تقریروں، احتجاجی سرگرمیوں اور ان کی سیاسی موجودگی کو مسلسل نمایاں کیا
اس تحریک کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسے کسی روایتی انتخابی جماعت کے طور پر سمجھنا ابھی درست نہیں ہوگا “کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نام دراصل اسی احتجاجی ماحول میں ایک طنزیہ سیاسی شناخت کے طور پر ابھرا،نیہا بورا خود آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر ہیں، جو بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ہے،تاہم جنتر منتر کی تحریک میں مختلف طلبہ اور سیاسی رجحانات کے نوجوانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا
یہی چیز اس تحریک کو روایتی بائیں بازو کی سیاست سے کچھ مختلف بناتی ہے
دی وائر کے ایک تفصیلی مشاہداتی مضمون میں جنتر منتر کے احتجاج کو محض ایک تنظیم کی تحریک کے بجائے مختلف نوجوان سیاسی رجحانات کے ملاپ کے طور پر بیان کیا گیا ہے ، اس میں نیہا بورا کو ان نوجوان رہنماؤں میں شمار کیا گیا جو احتجاج کے دوران انتظام، رابطہ کاری اور مختلف گروہوں کو ساتھ رکھنے میں نمایاں رہیں،مضمون کے مطابق احتجاج میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن، امبیڈکر وادی کارکنوں اور نئے ’’کاکروچ‘‘ گروپ کے نوجوانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا
لیکن اب اصل امتحان شروع ہوا ہے
احتجاج کرنا اور ملک بھر میں نوجوانوں کو مستقل سیاسی قوت میں تبدیل کرنا دو بالکل مختلف کام ہیں
جنتر منتر پر ایک مشترکہ غصہ موجود تھا،امتحانی نظام پر عدم اعتماد، نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع، تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت کے الزامات اور حکومت سے بڑھتی ہوئی بے چینی،لیکن جب یہی نوجوان مختلف شہروں میں منتشر ہوں گے تو سوال یہ ہوگا کہ کیا یہ غصہ کسی مستقل تنظیمی ڈھانچے، واضح سیاسی پروگرام اور انتخابی اثر میں تبدیل ہو سکتا ہے؟
نیہا بورا کا ’’جین زی رائزنگ‘‘ دورہ اسی سوال کا پہلا بڑا تجربہ ہے
کلکتہ میں 11 اگست کو ان کا پیغام واضح تھا،انہوں نے نیٹ کے امتحانی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے باصلاحیت طلبہ کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے،انہوں نے مغربی بنگال میں طلبہ یونین انتخابات نہ کرانے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا
یہاں سے ان کی سیاست کا دائرہ بھی واضح ہونے لگتا ہے،وہ صرف نیٹ یا کسی ایک امتحان کی اصلاح کی بات نہیں کر رہیں بلکہ تعلیم، روزگار، نوجوانوں کی نمائندگی اور سیاسی آزادی کو ایک ہی بڑے سوال میں جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں
ان کی مہم کے مطالبات میں قومی امتحانی ایجنسی کے خاتمے، نئی تعلیمی پالیسی واپس لینے، معیاری تعلیم تک وسیع رسائی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع جیسے مطالبات شامل ہیں
لیکن ان کے سامنے ایک بنیادی رکاوٹ بھی ہے
بھارت کی قومی سیاست میں نوجوانوں کا غصہ کوئی نئی چیز نہیں،مختلف ادوار میں طلبہ تحریکوں نے بڑے سیاسی رہنما پیدا کیے ہیں، لیکن ہر احتجاج ایک مستقل سیاسی تحریک نہیں بن سکا،بہت سی تحریکیں ایک مخصوص واقعے، حکومت مخالف جذبات یا کسی فوری مطالبے کے گرد جمع ہوئیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ منتشر ہوگئیں
نیہا بورا کے معاملے میں فرق یہ ہے کہ وہ پہلے ہی ایک منظم طلبہ تنظیم کی سربراہ ہیں اور ان کے پیچھے ایک موجودہ تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے،اس کے علاوہ جنتر منتر کے احتجاج نے انہیں ایسے نوجوانوں کے ایک وسیع حلقے سے متعارف کرایا جو لازماً آئیسا کے رکن نہیں تھے
یہی ان کی طاقت بھی ہے اور سب سے بڑا خطرہ بھی
اگر وہ صرف بائیں بازو کے روایتی سیاسی حلقے تک محدود رہیں تو ان کی قومی رسائی محدود ہو سکتی ہے،لیکن اگر وہ مختلف نظریات رکھنے والے نوجوانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئیں تو ان کی سیاست بھارتی نوجوانوں میں ایک نئی قسم کی اپوزیشن سیاست کو جنم دے سکتی ہے
ان کے سفر کا استقبال بھی اسی سوال کا ابتدائی جواب دے گا
رانچی سے شروع ہونے والی مہم اب کلکتہ پہنچ چکی ہے اور اس کے بعد بھارت کے کئی بڑے تعلیمی اور شہری مراکز میں جانے والی ہے،ابھی تک دستیاب رپورٹنگ میں اس مہم کو ایک بڑے انتخابی جلسہ سلسلے کے بجائے طلبہ اور نوجوانوں سے رابطے کی ملک گیر مہم کے طور پر پیش کیا گیا ہے
یہ فرق اہم ہے
نیہا بورا ابھی کسی قومی انتخاب کی امیدوار نہیں ہیں،ان کی کوئی انتخابی جماعت نہیں، پارلیمانی نشست نہیں اور نہ ہی ان کے پاس یہ ثابت کرنے کا انتخابی ریکارڈ ہے کہ وہ احتجاجی مقبولیت کو ووٹ میں تبدیل کر سکتی ہیں،
مگر سیاست ہمیشہ انتخابات سے شروع نہیں ہوتی
کبھی کبھی سیاست پہلے زبان تبدیل کرتی ہے، پھر بحث کا موضوع، پھر نسل کی سیاسی نفسیات اور آخر میں ووٹ کا رویہ
جنتر منتر پر نیہا بورا نے جو مقام حاصل کیا، وہ اسی ابتدائی مرحلے کی علامت ہے،ان کے گرد بننے والی نوجوانوں کی سیاست ابھی اتنی بڑی نہیں کہ اسے بھارتی سیاسی نظام کے لیے فوری خطرہ قرار دیا جائے،لیکن اسے نظر انداز کرنا بھی آسان نہیں ہوگا
خاص طور پر اس لیے کہ بھارتی سیاست میں ایک پوری نوجوان نسل ایسے مسائل کے ساتھ بالغ ہو رہی ہے جن کا تعلق براہ راست اس کی روزمرہ زندگی سے ہے،تعلیم کتنی مہنگی ہے، داخلہ امتحان کتنا قابل اعتماد ہے، ڈگری کے بعد روزگار کہاں ہے، اور کیا نوجوانوں کو اپنی حکومت کے فیصلوں میں واقعی کوئی آواز حاصل ہے؟
نیہا بورا کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ ان سوالات کو ایک جذباتی احتجاج سے آگے لے جا کر ایک ایسا سیاسی تصور بنا سکتی ہیں یا نہیں جس میں احتجاج کے بعد بھی لوگ ساتھ رہیں
اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو ’’جین زی رائزنگ‘‘ محض ایک دورہ نہیں رہے گا
یہ بھارت کی نوجوان سیاست کے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے
اور اگر یہ مہم صرف جنتر منتر کے غصے کو مختلف شہروں تک پہنچانے تک محدود رہ گئی، تو ممکن ہے چند ماہ بعد اس کا ذکر بھی ان بہت سی احتجاجی تحریکوں کی طرح تاریخ کے ایک مختصر باب کے طور پر رہ جائے جو لمحہ بھر کے لیے قومی سیاست کو ہلا تو دیتی ہیں، مگر اسے بدل نہیں پاتیں
فی الحال سب سے اہم بات یہی ہے،نیہا بورا کے پاس مقبولیت کا ابتدائی سرمایہ موجود ہے، نوجوانوں کا ایک متحرک حلقہ موجود ہے اور ملک گیر مہم کا موقع بھی،اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس توانائی کو تنظیم، نظریے اور بالآخر سیاسی طاقت میں تبدیل کر پاتی ہیں یا نہیں

قومی خبریں سے مزید