ڈالر کا برِیٹو امریکی قدامت پسندوں کے درمیان مہنگائی کی جنگ کا نیا محاذ بن گیا
امریکہ میں ایک 20 ڈالر کے برِیٹو نے قدامت پسند سیاست کے اندر ایسی بحث چھیڑ دی ہے جو بظاہر ایک معمولی کھانے کی قیمت سے شروع ہوئی، لیکن اب مہنگائی، عوام کی قوتِ خرید اور ریپبلکن پارٹی کی معاشی سیاست کے بارے میں ایک بڑے سوال میں تبدیل ہو چکی ہے۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب نوجوان امریکیوں کی جانب سے مہنگے کھانے اور خاص طور پر 20 ڈالر کے برِیٹو کی شکایت پر قدامت پسند حلقوں میں بحث شروع ہوئی۔ بعض قدامت پسند مبصرین نے نوجوانوں کی شکایت کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص 20 ڈالر کا برِیٹو خرید رہا ہے تو اسے اپنی ترجیحات پر غور کرنا چاہیے۔
لیکن دوسرے قدامت پسندوں نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ایک برِیٹو کہاں سے خریدا جا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ عام امریکی خاندان کے لیے خوراک اور روزمرہ اشیا کی قیمتیں گزشتہ برسوں میں کس حد تک بڑھ چکی ہیں۔
قدامت پسند مبصر میٹ والش نے بھی اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے خبردار کیا کہ ریپبلکنز کو مہنگائی کے بارے میں صرف یہ جواب نہیں دینا چاہیے کہ لوگ سستا برِیٹو بنانا سیکھیں، ورنہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں انہیں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے
بحث اس وقت مزید نمایاں ہو گئی جب واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار مارک تھیسن نے 20 ڈالر کے برِیٹو پر نوجوانوں کی شکایت کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں اپنی یونیورسٹی کی کھانے کی سہولت استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ اس پر نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی سوشل میڈیا پر تھیسن کو ذاتی انداز میں جواب دے دیا، جس سے معاملہ قدامت پسند حلقوں کے اندر ایک کھلی لڑائی کی شکل اختیار کر گیا
بین شاپیرو سمیت دیگر معروف قدامت پسند آوازیں بھی بحث میں شامل ہوئیں۔ بعض نے مؤقف اختیار کیا کہ 20 ڈالر کا برِیٹو معمول کی قیمت نہیں اور صارف اگر اتنی رقم ادا کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی ترجیح ہے۔ دوسری جانب مہنگائی سے پریشان قدامت پسندوں کا کہنا ہے کہ ایسی باتیں اس بنیادی مسئلے کو نظرانداز کرتی ہیں کہ عام خاندان کے لیے خوراک، رہائش اور دوسری ضروریات پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہو چکی ہیں
یہی وجہ ہے کہ برِیٹو اب امریکی قدامت پسند سیاست میں ایک علامت بن گیا ہے۔ ایک طرف وہ قدامت پسند ہیں جو ذاتی ذمہ داری، کم حکومتی مداخلت اور صارفین کے اپنے فیصلوں پر زور دیتے ہیں؛ دوسری طرف وہ معاشی قوم پرست اور عوام پسند قدامت پسند ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ریپبلکن پارٹی کو عام امریکی کی جیب پر پڑنے والے دباؤ کو زیادہ سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور مہنگائی، خوراک اور گھریلو اخراجات ووٹروں کے اہم مسائل میں شامل ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ اگر عام ووٹر کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کی معاشی مشکلات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو سیاسی نقصان صرف ایک برِیٹو کی قیمت تک محدود نہیں رہے گا۔
20 ڈالر کا برِیٹو اس لیے وائرل نہیں ہوا کہ امریکی سیاست میں کھانے کی قیمت پہلی بار زیر بحث آئی ہے، بلکہ اس لیے کہ اس نے ایک زیادہ حساس سوال کو بے نقاب کر دیا ہے: کیا ریپبلکن پارٹی واقعی اس عام امریکی کی معاشی پریشانی کو سمجھ رہی ہے جس کے ووٹ نے اسے اقتدار تک پہنچایا، یا پارٹی کے اندرونی نظریاتی اختلافات اب مہنگائی کے مسئلے پر بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں؟
برِیٹو چھوٹا ہے، مگر اس کے گرد ہونے والی سیاسی لڑائی اس سے کہیں بڑی ہے





