ایک صدی بعد بھی روٹ 66 امریکی یادداشت، آزادی اور سفر کی علامت

ایک صدی بعد بھی روٹ 66 امریکی یادداشت، آزادی اور سفر کی علامت

واشنگٹن: امریکہ کی سب سے مشہور تاریخی شاہراہ روٹ 66 اپنے قیام کے ایک سو سال مکمل ہونے کے باوجود آج بھی صرف ایک سڑک نہیں، بلکہ امریکی ثقافت، آزادی، مہم جوئی اور اجتماعی یادداشت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ اس شاہراہ کا بڑا حصہ جدید بین الریاستی ہائی ویز سے تبدیل ہو چکا ہے، لیکن ہر سال لاکھوں سیاح اس تاریخی راستے پر سفر کرتے ہیں تاکہ وہ اس امریکہ کو دیکھ سکیں جو تیز رفتار موٹرویز کی تعمیر سے پہلے موجود تھا۔

1926 میں قائم ہونے والی تقریباً 2,448 میل طویل روٹ 66 شکاگو کو لاس اینجلس سے ملاتی تھی۔ اس نے بیسویں صدی میں امریکہ کی معاشی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ عظیم کساد بازاری کے دوران ہزاروں خاندان بہتر مستقبل کی تلاش میں اسی شاہراہ کے ذریعے مغرب کی جانب روانہ ہوئے، جبکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ سڑک امریکی سیاحت اور آٹوموبائل کلچر کی پہچان بن گئی۔

اگرچہ 1985 میں اسے سرکاری امریکی ہائی وے نظام سے خارج کر دیا گیا، لیکن اس کی مقبولیت ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی اس کے کنارے موجود پرانے ڈائنرز، موٹلز، پٹرول اسٹیشن، نیون سائنز، عجائب گھر اور چھوٹے قصبے دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ بہت سے مقامات کو تاریخی ورثہ قرار دے کر محفوظ کیا جا رہا ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس دور کی جھلک دیکھ سکیں۔

ماہرین کے مطابق روٹ 66 کی اصل طاقت اس کے اسفالٹ میں نہیں، بلکہ اس کہانی میں ہے جو یہ امریکی معاشرے کے بارے میں سناتی ہے۔ یہ شاہراہ اس دور کی نمائندگی کرتی ہے جب سڑک پر نکلنا آزادی، نئے مواقع اور بہتر زندگی کی امید کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے آج بھی “مدر روڈ” یعنی تمام شاہراہوں کی ماں کہا جاتا ہے۔

اس کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر مختلف ریاستوں میں نمائشوں، کلاسک کار ریلیوں، ثقافتی میلوں اور تاریخی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ سیاحتی اداروں کو امید ہے کہ یہ تقریبات نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت دیں گی بلکہ امریکہ کی اس تاریخی شاہراہ کو نئی نسل کے لیے بھی زندہ رکھیں گی۔

ایک صدی گزرنے کے باوجود روٹ 66 آج بھی صرف منزل تک پہنچنے کا راستہ نہیں، بلکہ اس سفر کی علامت ہے جس نے امریکی خواب، ثقافت اور قومی شناخت کو ایک منفرد شکل دی۔

قومی خبریں سے مزید