سونم وانگچک کا دعویٰ، راہول گاندھی سے روزہ ختم کرانے میں مدد مانگی مگر کوئی جواب نہ ملا

سونم وانگچک کا دعویٰ، راہول گاندھی سے روزہ ختم کرانے میں مدد مانگی مگر کوئی جواب نہ ملا

لداخ کے ماحولیاتی کارکن اور سماجی رہنما سونم وانگچک نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی اہلیہ نے کانگریس رہنما راہول گاندھی سے رابطہ کر کے ان کا 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرانے میں مدد طلب کی تھی، لیکن انہیں کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔

وانگچک نے کہا کہ وہ طویل بھوک ہڑتال کے دوران صحت کے سنگین خطرات کا سامنا کر رہے تھے اور اس موقع پر ان کی اہلیہ نے سیاسی رہنماؤں سے رابطہ کیا تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔ ان کے مطابق راہول گاندھی سے بھی مدد کی درخواست کی گئی، لیکن کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔

لداخ کے حقوق، ریاستی حیثیت اور آئینی تحفظات کے مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والے وانگچک نے اس سے قبل حکومت کے نمائندوں سے ہونے والی ملاقات پر بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی وزرا نے ان کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد رات گئے ہونے والی ملاقات کی تصاویر جاری کر دیں، حالانکہ ان کے مطابق اس بارے میں پہلے سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ تصاویر جاری نہیں کی جائیں گی۔

وانگچک کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے سیاسی قیادت پر ان کے اعتماد کو مزید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران ان کا مقصد کسی سیاسی جماعت کے خلاف مہم چلانا نہیں بلکہ لداخ کے لوگوں کے مطالبات کو اجاگر کرنا تھا۔

سونم وانگچک بھارت میں ماحولیاتی مسائل، تعلیم اور پائیدار ترقی کے حوالے سے ایک معروف آواز سمجھے جاتے ہیں۔ لداخ کے معاملے پر ان کی تحریک نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی، خاص طور پر نوجوانوں اور ماحولیاتی حلقوں میں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق وانگچک کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لداخ کے مطالبات اب صرف مقامی مسئلہ نہیں رہے بلکہ قومی سیاست میں بھی بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔

حکومت اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان الزامات پر ردعمل آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ اس معاملے میں سیاسی رابطوں میں ناکامی کی اصل وجوہات کیا تھیں

قومی خبریں سے مزید