الیکشن کمیشن نے ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تصدیق کے اختیارات مانگ لیے

الیکشن کمیشن نے ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تصدیق کے اختیارات مانگ لیے

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثوں کے گوشواروں کی جانچ پڑتال اور تصدیق کے لیے مزید اختیارات دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ صرف اثاثوں کے گوشوارے جمع کروانا کافی نہیں بلکہ ان کی مؤثر جانچ بھی ضروری ہے تاکہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
موجودہ قانون کے تحت قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو ہر سال اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروانا ہوتی ہیں، جس میں ان کے شریکِ حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثے بھی شامل ہوتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے اثاثوں کی معلومات کی تصدیق کے لیے متعلقہ اداروں سے ریکارڈ حاصل کرنے اور مشکوک گوشواروں کی جانچ کا اختیار ملنا چاہیے تاکہ غلط معلومات یا چھپائے گئے اثاثوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات کے اجرا اور رازداری سے متعلق قانون سازی پر بھی بحث جاری ہے۔ حالیہ ترامیم میں بعض حالات میں ارکان کے اثاثوں کی تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر نہ کرنے کی گنجائش شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی تھی، جس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔
سیاسی و قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اثاثوں کی آزادانہ تصدیق کا نظام عوامی اعتماد بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ ناقدین شفافیت میں کمی کے امکانات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید