عبدل السید کی جارحانہ انتخابی للکار نے نئی بحث چھیڑ دی، مشیگن سینیٹ مقابلہ مزید تلخ ہونے کے اشارے
مشیگن میں ڈیموکریٹک سینیٹ نامزدگی حاصل کرنے کے فوراً بعد عبدل السید نے اپنے ریپبلکن حریف مائیک راجرز کو پانچ مباحثوں کا چیلنج دے کر انتخابی مہم کا لہجہ سخت کر دیا، لیکن ان کے الفاظ نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث بھی شروع کر دی ہے۔
عبدل السید نے اپنے خطاب میں مائیک راجرز کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پانچ مباحثوں کے لیے چیلنج قبول نہیں کریں گے کیونکہ وہ “بزدل” ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مباحثوں کے دوران وہ راجرز کے ماضی کے فیصلوں اور سیاسی ریکارڈ کو سامنے لائیں گے اور انہیں جواب دہ بنائیں گے۔
ان کے سخت الفاظ کے بعد قدامت پسند حلقوں نے ان پر تنقید شروع کر دی اور کہا کہ ایک قومی سطح کے امیدوار کو سیاسی اختلاف کے باوجود زبان میں احتیاط برقرار رکھنی چاہیے۔
تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ عبدل السید کا انداز ترقی پسند سیاست کے اس پہلو کو ظاہر کرتا ہے جس میں مخالفین کے خلاف سخت زبان استعمال کی جاتی ہے، جبکہ ان کے حامی اسے ایک ایسے امیدوار کی علامت قرار دیتے ہیں جو روایتی سیاسی انداز سے مختلف ہے اور طاقتور حلقوں کو براہِ راست چیلنج کرنے سے نہیں گھبراتا۔
عبدل السید کی مہم پہلے ہی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند دھڑے کی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنی مہم میں صحت کی سہولتوں، سیاسی نظام میں بڑے مالی اثر و رسوخ کے خاتمے اور عام شہریوں کے مسائل کو مرکزی حیثیت دی۔
لیکن نومبر کے عام انتخابات میں ان کا اصل امتحان شروع ہوگا، جہاں انہیں نہ صرف ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کا سامنا ہوگا بلکہ ان ووٹرز کو بھی قائل کرنا ہوگا جو پارٹی کے نظریاتی کارکنوں سے مختلف انداز میں سوچتے ہیں۔
مائیک راجرز کے حامی پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ عبدل السید کے ترقی پسند مؤقف اور انتخابی انداز کو تنقید کا مرکزی موضوع بنائیں گے۔
مشیگن، جو حالیہ انتخابات میں ایک اہم سوئنگ ریاست ثابت ہوئی ہے، میں سینیٹ کی یہ نشست قومی سیاست کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ عبدل السید کی کامیابی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر تبدیلی کے رجحان کو نمایاں کیا ہے، لیکن عام انتخابات میں انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صرف پارٹی کے ترقی پسند ووٹروں نہیں بلکہ وسیع تر ریاستی ووٹرز کو بھی متحرک کر سکتے ہیں







