حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے نئے پنشن فنڈ نظام کا آغاز کر دیا، 16 اداروں سے معاہدے طے
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پنشن اصلاحات کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ اسکیم (DCPFS) کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے 16 پنشن فنڈ مینیجرز کے ساتھ معاہدے کر لیے ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ اسکیم ایک سال قبل شروع کی گئی تھی، جس کا مقصد سرکاری شعبے میں بڑھتے ہوئے پنشن اخراجات کو قابو کرنا اور مستقبل میں بجٹ پر پڑنے والے بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
نئے نظام کے تحت ملازمین کی پنشن کے لیے فنڈز سرمایہ کاری کے ذریعے جمع کیے جائیں گے، جبکہ پنشن فنڈ مینیجرز ملازمین کے لیے سرمایہ کاری کے انتظام کے ساتھ ساتھ وفات اور معذوری کی صورت میں مالی تحفظ (Death and Disability Risk Cover) بھی یقینی بنائیں گے۔
وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ اس اسکیم کے مؤثر نفاذ، نگرانی اور انتظام کے لیے حکومت ایک نان بینکنگ فنانس کمپنی (NBFC) بھی قائم کرے گی، جو پنشن اسکیم کی نگرانی اور متعلقہ امور میں معاونت فراہم کرے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئی پنشن اسکیم کا مقصد سرکاری پنشن کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنا، مالی استحکام پیدا کرنا اور ملازمین کے مستقبل کے لیے ایک پائیدار پنشن نظام قائم کرنا ہے





