ہاورڈ یونیورسٹی نے فیس تنازع کے بعد 200 سے زائد طلبہ کو دوبارہ داخلہ دے دیا، 500 سے زیادہ طلبہ کا اندراج منسوخ کیا گیا تھا
امریکہ کی معروف تاریخی سیاہ فام یونیورسٹی ہاورڈ یونیورسٹی نے ان 500 سے زائد نئے طلبہ میں سے 200 سے زیادہ کو دوبارہ داخلہ دے دیا ہے جن کا خزاں کے سمسٹر کے لیے اندراج مالی واجبات کی عدم تکمیل کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔
واشنگٹن ڈی سی میں قائم یونیورسٹی کے عبوری صدر وین اے آئی فریڈرک نے بتایا کہ دوبارہ داخل کیے گئے طلبہ کا معاملہ حل کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی طلبہ کے کیسز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
فریڈرک نے خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں یونیورسٹی کے ابتدائی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اور ان کے خاندانوں میں ممکنہ طور پر ان مالی ذمہ داریوں کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوئی جو تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے پوری کرنا ضروری تھیں۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے مارچ سے ہی طلبہ کو آگاہ کر دیا تھا کہ ٹیوشن فیس کی بقایا رقم جولائی کے وسط تک ادا کرنا ضروری ہے، اور اس حوالے سے ادارے کی جانب سے رابطہ واضح تھا۔
تاہم طلبہ اور والدین کی جانب سے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، کیونکہ داخلہ منسوخی سے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر کئی خاندان غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے تھے۔
ہاورڈ یونیورسٹی، جو امریکہ کے نمایاں تاریخی سیاہ فام تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے، اب باقی متاثرہ طلبہ کے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ مالی مسائل کے باعث تعلیمی سلسلہ متاثر ہونے سے بچایا جا سکے





