سلمان رشدی کا عدالت میں بیان: چار سال بعد بھی حملے کی ہولناک یادیں تازہ
معروف مصنف سلامان رشدی نے نیویارک کی عدالت میں اپنے اوپر ہونے والے حملے کی تفصیلات دوبارہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ واقعہ ان کی زندگی کا ایک انتہائی خوفناک لمحہ تھا۔
چار سال قبل نیویارک کے ایک ثقافتی اجتماع کے دوران اسٹیج پر چاقو کے حملے کا نشانہ بننے والے رشدی نے جمعرات کو عدالت میں اپنے مبینہ حملہ آور کے سامنے گواہی دی۔ یہ دوسری مرتبہ تھا جب انہوں نے عدالت میں اس واقعے کی تفصیل بیان کی۔
رشدی نے بتایا کہ حملے کے آغاز میں انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے ان کی ٹھوڑی کے نیچے زور سے مکا مارا ہو، لیکن چند لمحوں بعد انہیں احساس ہوا کہ ان کی گردن سے خون بہہ رہا ہے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ نیویارک کے ایک ایمفی تھیٹر میں تقریب کے لیے موجود تھے۔ حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کی ایک آنکھ کی بینائی بھی متاثر ہوئی۔
عدالت میں ان کی گواہی دہشت گردی کے مقدمے کے دوران سامنے آئی، جس میں حملہ آور کو پہلے ہی مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ مقدمے میں استغاثہ اس واقعے کے محرکات اور حملے کی نوعیت کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رشدی عالمی ادب کی اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور اپنی تحریروں کے باعث کئی دہائیوں سے تنازعات کا مرکز بھی رہے ہیں۔ ان پر حملہ آزادی اظہار، مصنفین کے تحفظ اور سیاسی و مذہبی انتہا پسندی کے اثرات پر ایک بار پھر عالمی بحث کا باعث بنا۔
عدالت میں ان کا بیان صرف ایک ذاتی تجربے کی یاد دہانی نہیں بلکہ اس سوال کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کے لیے کام کرنے والوں کو کس نوعیت کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے





