Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کھیتوں کی زمین میں چھپے خطرناک کیمیکلز، سائنسدانوں نے صفائی کا سستا نیا طریقہ دریافت کر لیا

کھیتوں کی زمین میں چھپے خطرناک کیمیکلز، سائنسدانوں نے صفائی کا سستا نیا طریقہ دریافت کر لیا

واشنگٹن: دنیا بھر میں زرعی زمینوں میں موجود ایسے خطرناک کیمیکلز جنہیں عام طور پر ’’ہمیشہ باقی رہنے والے کیمیکلز‘‘ کہا جاتا ہے، ماہرین کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بن رہے ہیں، تاہم سائنسدانوں نے اب ان آلودگیوں کو ختم کرنے کا ایک نیا اور نسبتاً کم خرچ طریقہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فاسٹ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق یہ کیمیکلز، جنہیں پی ایف اے ایس کہا جاتا ہے، ماحول میں آسانی سے ختم نہیں ہوتے اور برسوں تک مٹی، پانی اور خوراک کے نظام میں موجود رہ سکتے ہیں۔ امریکا کی کئی زرعی زمینوں میں یہ مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب معلوم ہوا کہ ماضی میں گندے پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس سے حاصل ہونے والے کیچڑ کو کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا، جس میں یہ کیمیکلز موجود تھے۔

رپورٹ کے مطابق ریاست مین کے کچھ کسانوں نے اس مسئلے کو نمایاں کیا جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے کھیتوں میں کئی دہائیاں قبل استعمال کی گئی گندے پانی کی باقیات نے مٹی میں ایسے کیمیکلز چھوڑ دیے جو آج بھی موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق پی ایف اے ایس کیمیکلز صنعتی مصنوعات، پانی سے بچاؤ والی اشیا اور دیگر استعمال کی چیزوں میں برسوں تک استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں خدشات ہیں کہ یہ انسانی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، اور تحقیقات میں انہیں جگر کی بیماریوں، بعض اقسام کے سرطان اور دیگر صحت کے مسائل سے جوڑا گیا ہے، اگرچہ ان کے تمام اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے۔

موجودہ طریقوں سے زرعی زمینوں سے ان کیمیکلز کو ہٹانا انتہائی مہنگا ثابت ہوتا ہے، لیکن نئی دریافت شدہ تکنیک کے بارے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ موجودہ طریقوں کے مقابلے میں کئی گنا کم لاگت رکھتی ہے اور ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ طریقہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف زرعی زمینوں کو آلودگی سے پاک کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کوششوں میں بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید