Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ماہرین کا دعویٰ، خود پسندی کی شخصیت کی اصل وجوہات سے پردہ اٹھنا شروع ہو گیا

ماہرین کا دعویٰ، خود پسندی کی شخصیت کی اصل وجوہات سے پردہ اٹھنا شروع ہو گیا

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نئی تحقیقات نے اس بات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دی ہے کہ خود پسندی کی شخصیت، جسے نفسیات میں نرگسیت کہا جاتا ہے، آخر کن عوامل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیفیت صرف پیدائشی خصوصیات کا نتیجہ نہیں بلکہ بچپن کے ماحول، خاندانی تربیت، سماجی تجربات اور جینیاتی عوامل کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔

تازہ سائنسی مطالعات کے مطابق نرگسیت کی شخصیت اس وقت زیادہ ابھر سکتی ہے جب بچوں کی غیر معمولی تعریف کی جائے، انہیں دوسروں سے برتر ثابت کرنے کی کوشش کی جائے یا اس کے برعکس انہیں مسلسل نظر انداز کیا جائے اور جذباتی تحفظ نہ ملے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دونوں انتہائیں شخصیت کی نشوونما پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض افراد میں جینیاتی رجحان موجود ہو سکتا ہے، لیکن صرف جینیات ہی اس شخصیت کو جنم نہیں دیتیں۔ بچپن کے تجربات، والدین کے رویے، سماجی تعلقات اور زندگی کے حالات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق نرگسیت کی شخصیت رکھنے والے افراد میں اپنی اہمیت کا غیر معمولی احساس، مسلسل تعریف کی خواہش، تنقید برداشت نہ کرنے کی صلاحیت اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے میں دشواری جیسی خصوصیات پائی جا سکتی ہیں، تاہم ہر خوداعتماد یا کامیاب شخص کو نرگسیت کا شکار قرار دینا درست نہیں۔

تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نرگسیت کو بہتر طور پر سمجھنے سے نہ صرف ذہنی صحت کے شعبے میں علاج کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ والدین، اساتذہ اور معاشرے کو بھی بچوں کی متوازن شخصیت کی تشکیل میں مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شخصیت کی تشکیل ایک پیچیدہ عمل ہے، اور کسی ایک وجہ کو نرگسیت کی بنیادی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نئی تحقیق کا مقصد اس پیچیدہ نفسیاتی کیفیت کو زیادہ سائنسی بنیادوں پر سمجھنا اور اس کے علاج و روک تھام کے مؤثر طریقے تلاش کرنا ہے

قومی خبریں سے مزید