Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی ایوانِ نمائندگان میں 95 ارب ڈالر کے بجٹ منصوبے کی منظوری، پینٹاگون فنڈز اور انتخابی قوانین پر نئی سیاسی جنگ شروع

امریکی ایوانِ نمائندگان میں 95 ارب ڈالر کے بجٹ منصوبے کی منظوری، پینٹاگون فنڈز اور انتخابی قوانین پر نئی سیاسی جنگ شروع

امریکی ایوانِ نمائندگان نے ریپبلکن ارکان کی حمایت سے 95 ارب ڈالر کے ایک بڑے بجٹ فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت دفاعی شعبے کے لیے اضافی فنڈز، زرعی امداد اور ریاستوں کو انتخابی قوانین سخت کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

دی ہِل کے مطابق یہ ووٹنگ ایوان کے اسپیکر مائیک جانسن کے لیے ایک اہم سیاسی کامیابی ہے، کیونکہ انہیں اپنی معمولی اکثریت رکھنے والی جماعت کے اندر موجود ان ارکان کو قائل کرنا پڑا جو اس منصوبے میں اخراجات پورے کرنے کے ذرائع سے متعلق تحفظات رکھتے تھے۔

مائیک جانسن نے بجٹ قرارداد کی منظوری کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ریپبلکن پارٹی فوجیوں، کسانوں اور انتخابات کے تحفظ کی حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں نے اس منصوبے کی کامیابی پر شک ظاہر کیا تھا، لیکن ایوان نے اسے منظور کر دیا۔

اس بجٹ فریم ورک میں امریکی محکمہ دفاع کے لیے اضافی وسائل، زرعی شعبے کے لیے امداد اور ان ریاستوں کی حوصلہ افزائی کے لیے رقم شامل ہے جو ووٹنگ سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کرنا چاہتی ہیں۔ ریپبلکن ارکان اسے قومی سلامتی، کسانوں کے تحفظ اور انتخابی سلامتی سے جوڑ رہے ہیں۔

تاہم ڈیموکریٹس اور ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابی قوانین سے متعلق شقیں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش ہیں، جبکہ بعض ارکان نے دفاعی اخراجات میں اضافے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ منظوری بجٹ مفاہمتی عمل کا صرف ابتدائی مرحلہ ہے۔ امریکی قانون سازی کے نظام میں اس عمل کے کئی مراحل ہوتے ہیں، اور اب اس منصوبے کو سینیٹ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جہاں اس کی منظوری آسان نہیں ہوگی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ دفاعی اخراجات، وفاقی بجٹ، انتخابی پالیسی اور کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان طاقت کے توازن کے حوالے سے آنے والے دنوں میں اہم بحث کا مرکز رہے گا

قومی خبریں سے مزید