Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

ایران جنگ میں خطرہ محاذ سے دور امریکی فوجیوں تک پہنچ گیا، فضائی دفاعی یونٹوں کے چار اہلکار ہلاک

ایران جنگ میں خطرہ محاذ سے دور امریکی فوجیوں تک پہنچ گیا، فضائی دفاعی یونٹوں کے چار اہلکار ہلاک

ایران کے ساتھ جاری جنگ میں تازہ امریکی فوجی ہلاکتوں نے ظاہر کیا ہے کہ لڑائی کا خطرہ اب صرف سرحدی علاقوں یا براہِ راست محاذوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہزاروں میل دور موجود فوجی اڈوں پر تعینات اہلکار بھی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے چاروں امریکی فوجی فضائی دفاعی یونٹوں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ اہلکار ایسے اڈوں پر تعینات تھے جہاں ان کی ذمہ داری آنے والے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں سے دیگر فوجیوں اور تنصیبات کا دفاع کرنا تھی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان فوجیوں کی ہلاکت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ڈیلاویئر کا سفر کیا۔ ان ہلاکتوں نے جنگ کی ایک نئی حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ جدید جنگوں میں خطرات صرف اگلی صفوں میں لڑنے والے فوجیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ دفاعی نظام چلانے والے اہلکار بھی برابر کے خطرے میں ہیں۔

فضائی دفاعی یونٹوں کے فوجی عام طور پر براہِ راست حملہ آور کارروائیوں میں شامل نہیں ہوتے، لیکن ان کی موجودگی دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ ایسے مقامات پر تعینات رہتے ہیں جو بظاہر محاذ سے دور ہوتے ہیں، مگر جدید میزائل ٹیکنالوجی کے باعث اب محفوظ نہیں سمجھے جاتے۔

ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع میں ڈرونز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور جدید حملہ آور نظام نے جنگ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جس سے فوجی حکمتِ عملی میں یہ تصور تبدیل ہو رہا ہے کہ محفوظ مقام کسے کہا جائے۔

حالیہ ہلاکتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جدید دور کی جنگ میں فاصلے کا تحفظ تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور دفاعی ذمہ داریاں انجام دینے والے فوجی بھی براہِ راست جنگی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید