فرانس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی، یورپ میں سخت قوانین کی نئی مثال قائم

فرانس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی، یورپ میں سخت قوانین کی نئی مثال قائم

فرانس یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ فرانسیسی پارلیمنٹ نے اس قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کا اطلاق ستمبر سے متوقع ہے۔

نئے قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نئے اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، سائبر ہراسانی، نامناسب مواد اور ذہنی صحت پر منفی اثرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق کم عمری میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بچوں کی نفسیاتی صحت، توجہ، نیند اور سماجی رویوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھی ذمہ داری عائد کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام متعارف کرائیں۔

یہ فیصلہ یورپ میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بحث کا حصہ ہے۔ کئی یورپی ممالک پہلے ہی سوشل میڈیا کمپنیوں سے بچوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم فرانس پہلا ملک ہے جس نے 15 سال کی عمر کی حد مقرر کرتے ہوئے قانونی پابندی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کی تصدیق کے نظام پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہو گا، کیونکہ بچے اکثر اپنی اصل عمر چھپا کر آن لائن اکاؤنٹس بنا لیتے ہیں۔ بعض ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آیا پابندی کے بجائے والدین کی نگرانی، ڈیجیٹل تعلیم اور پلیٹ فارمز کی ذمہ داری زیادہ مؤثر حل ہو سکتے ہیں۔

فرانسیسی حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ قانون نئی نسل کے لیے زیادہ محفوظ آن لائن ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہے

قومی خبریں سے مزید