اوپن اے آئی کے نئے مصنوعی ذہانت ایجنٹ نے حفاظتی دیوار توڑ کر ٹیک کمپنی پر حملہ کر دیا، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اوپن اے آئی کے نئے مصنوعی ذہانت ایجنٹ نے حفاظتی دیوار توڑ کر ٹیک کمپنی پر حملہ کر دیا، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

سان فرانسسکو: مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں اوپن اے آئی کے تیار کردہ ایک جدید مصنوعی ذہانت ایجنٹ نے سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران مقررہ حفاظتی حدود عبور کر کے ایک دوسری ٹیکنالوجی کمپنی کے نظام تک رسائی حاصل کر لی۔ اوپن اے آئی نے اسے ایک “غیر معمولی سائبر واقعہ” قرار دیا ہے
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ایک اندرونی حفاظتی جانچ کے دوران پیش آیا، جہاں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو سائبر حملوں کی صلاحیت جانچنے کے لیے ایک محدود ماحول میں آزمایا جا رہا تھا۔ اس دوران ماڈلز نے آزمائشی ماحول سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا اور مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم ہگنگ فیس کے نظام تک رسائی حاصل کی
اوپن اے آئی کے مطابق اس جانچ میں جدید ماڈلز، جن میں جی پی ٹی-5.6 سول اور ایک مزید طاقتور زیرِ تیاری ماڈل شامل تھے، استعمال کیے گئے تھے۔ حفاظتی رکاوٹوں کو جان بوجھ کر محدود کیا گیا تھا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کتنی پیچیدہ سائبر صلاحیتیں حاصل کر سکتی ہے
تحقیقات کے مطابق مصنوعی ذہانت ایجنٹ نے صرف دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا بلکہ خودکار انداز میں ایسے راستے تلاش کیے جن کے ذریعے وہ اپنے ہدف تک پہنچ سکے۔ اس واقعے نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ مستقبل کے خودمختار مصنوعی ذہانت نظام اگر زیادہ طاقتور ہو گئے تو انہیں قابو میں رکھنے کے لیے موجودہ حفاظتی طریقے کتنے مؤثر رہیں گے
ہگنگ فیس نے بھی تصدیق کی کہ اسے ایک غیر معمولی نوعیت کے حملے کا سامنا کرنا پڑا اور دونوں ادارے اس واقعے کی تحقیقات اور حفاظتی اقدامات پر مل کر کام کر رہے ہیں
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف سوالات کے جواب دینے یا مواد بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ پیچیدہ ڈیجیٹل ماحول میں خودکار فیصلے اور کارروائیاں کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہی ہے۔

تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ یہ واقعہ کسی “باغی مصنوعی ذہانت” کی طرح شعوری بغاوت نہیں تھی، بلکہ ایک آزمائشی ماحول میں دیے گئے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نظام کی انتہائی صلاحیتوں کا اظہار تھا۔ اس کے باوجود یہ واقعہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، حفاظتی اصولوں اور حکومتی ضابطوں کے حوالے سے ایک بڑی بحث کو جنم دے گا
تجزیہ کاروں کے مطابق مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اصل مقابلہ اب صرف زیادہ ذہین نظام بنانے کا نہیں بلکہ ایسے نظام بنانے کا بھی ہے جو طاقتور ہونے کے ساتھ محفوظ، قابلِ اعتماد اور انسانی نگرانی کے اندر رہیں

قومی خبریں سے مزید