پاکستان کا موسمیاتی خطرے کا مرکز: گلگت بلتستان

پاکستان کا موسمیاتی خطرے کا مرکز: گلگت بلتستان

گلگت بلتستان پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں شامل ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب یہاں کے مسائل صرف سیلاب تک محدود نہیں رہے بلکہ گلیشیئر پگھلنے، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور شدید بارشوں کے مشترکہ اثرات ایک بڑے خطرے کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماضی میں پاکستان میں موسمیاتی تباہ کاریوں کا ذکر زیادہ تر سندھ اور پنجاب کے سیلابی علاقوں کے حوالے سے ہوتا تھا، لیکن اب خطرے کا آغاز شمالی پہاڑی علاقوں سے ہو رہا ہے، جہاں سے دریائے سندھ کا نظام شروع ہوتا ہے۔
گلگت بلتستان میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں اور گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں تقریباً 3 ہزار سے زائد گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، جن میں درجنوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب بارشوں کا نظام بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ زیادہ اونچائی والے علاقوں میں برف کے بجائے بارش کا تناسب بڑھ رہا ہے، جس سے برف پگھلنے اور سیلابی صورتحال ایک ساتھ پیدا ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں صرف سیلاب نہیں بلکہ گرمی کی لہریں، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور آبادیوں کی نقل مکانی جیسے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی زبانیں، ثقافت اور تاریخی ورثہ بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے خطرے میں آ سکتا ہے۔
رپورٹ میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خطرات کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائے، جس میں گلیشیئرز، بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باہمی تعلق کو مدنظر رکھا جائے۔

قومی خبریں سے مزید