امریکی فوج میں ٹیسٹوسیٹرن ٹیسٹ لازمی قرار دینے کا اعلان ، تیس سال اور اوپر کے سولجرز پابند ہونگے

واشنگٹن — امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج اب 30 سال یا اس سے زیادہ عمر کے فوجیوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کی جانچ شروع کرے گی۔ ان کے مطابق یہ اقدام فوجیوں کی جسمانی کارکردگی بہتر بنانے اور میدانِ جنگ میں صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

ہیگستھ نے ایک مختصر ویڈیو پیغام میں بتایا کہ انہوں نے ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی نشاندہی کے لیے ایک نیا طبی جانچ پروگرام منظور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ قدرتی طور پر جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار کم ہونا ایک معروف حقیقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے فوجی طبی ماہرین کی نگرانی میں 30 سال سے زائد عمر کے فوجیوں کا ہر سال معمول کے طبی معائنے کے دوران ٹیسٹ کیا جائے گا۔

وزیرِ دفاع کے مطابق 30 سال سے کم عمر فوجی بھی اپنی سالانہ طبی جانچ کے دوران اگر چاہیں تو ٹیسٹوسٹیرون کی سطح چیک کروا سکیں گے۔

ہیگستھ، جو خود کو فوجی طاقت، مردانہ جسمانی تیاری اور “جنگجو جذبے” کے حامی کے طور پر پیش کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام فوجیوں کی صحت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

تاہم ماہرین کے درمیان یہ بحث بھی موجود ہے کہ ٹیسٹوسٹیرون کی سطح صرف عمر کے ساتھ نہیں بلکہ نیند، ذہنی دباؤ، غذائیت، جسمانی سرگرمی اور دیگر طبی عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی کمی کا جائزہ مکمل طبی تناظر میں کیا جانا ضروری ہوگا

قومی خبریں سے مزید