سونم وانگچک کی حالت نازک، ترنمول کانگریس نے مودی حکومت کو ذمہ دار قرار دے دیا

سونم وانگچک کی حالت نازک، ترنمول کانگریس نے مودی حکومت کو ذمہ دار قرار دے دیا

نئی دہلی — لداخ کے معروف ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی طویل بھوک ہڑتال کے 18ویں روز صحت بگڑنے پر ترنمول کانگریس نے بھارتی مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

ترنمول کانگریس کے رہنما ساکت گوکھلے نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ وہ وانگچک اور احتجاج کرنے والوں سے بات چیت شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ وانگچک کی حالت “انتہائی نازک” ہو چکی ہے اور ان کا وزن بھی نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔

وانگچک نئی دہلی کے جنتر منتر پر غیر معینہ بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ ان کے احتجاج کا تعلق امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، سوالیہ پرچوں کے افشا اور تعلیمی نظام میں جواب دہی کے مطالبات سے ہے۔

سونم وانگچک کون ہیں؟

سونم وانگچک لداخ کے معروف انجینئر، موجد اور ماہرِ تعلیم ہیں، جنہیں ماحول دوست تعلیم اور برفانی علاقوں میں جدید حل پیش کرنے کی وجہ سے عالمی سطح پر شناخت ملی۔ انہیں عام طور پر لداخ کے تعلیمی اور ماحولیاتی مسائل کے لیے آواز اٹھانے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

وہ لداخ میں مقامی حقوق، ماحول کے تحفظ اور خطے کے مستقبل سے متعلق معاملات پر بھی سرگرم رہے ہیں۔ لداخ کے یونین ٹیریٹری بننے کے بعد مقامی حلقوں میں آئینی تحفظ، زمین اور روزگار کے حقوق سمیت کئی معاملات پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔

لداخ کے معاملات میں کردار

لداخ کو 2019 میں جموں و کشمیر سے الگ کر کے الگ یونین ٹیریٹری بنایا گیا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد لداخ کے کئی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ خطے کو مزید آئینی تحفظات دیے جائیں تاکہ مقامی آبادی کے زمین، ثقافت اور وسائل کے حقوق محفوظ رہیں۔

سونم وانگچک ماضی میں بھی ان مطالبات کے حوالے سے احتجاج اور مذاکرات کا حصہ رہے ہیں۔

موجودہ احتجاج

موجودہ بھوک ہڑتال میں وانگچک اور ان کے حامی تعلیمی نظام میں مبینہ خامیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور مرکزی وزیر تعلیم سے جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو احتجاج ختم کرانے کے لیے فوری بات چیت کرنی چاہیے۔

دوسری جانب بھارتی حکومت کا مؤقف اس معاملے پر مختلف رہا ہے، جبکہ سیاسی مخالف جماعتیں وانگچک کے احتجاج کو حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان قرار دے رہی ہیں۔

وانگچک کی صحت پر تشویش کے باعث دہلی ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں فوری طبی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ معاملہ اب صرف ایک احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ لداخ کی سیاست، تعلیمی نظام کی شفافیت اور حکومت و شہری سماج کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم بحث بن چکا ہے

قومی خبریں سے مزید