Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

راولپنڈی کے کتے بھی ڈاڈھے ، ایک روز میں سات کو کاٹ کھایا

راولپنڈی کے کتے بھی ڈاڈھے ، ایک روز میں سات کو کاٹ کھایا

راولپنڈی — راولپنڈی شہر اور گرد و نواح میں آوارہ کتوں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ایک ہی دن میں کتے کے کاٹنے کے سات واقعات رپورٹ ہوئے۔ حکام کے مطابق تمام متاثرہ افراد کی حالت مستحکم ہے اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو آوارہ کتوں نے سڑکوں پر چلتے ہوئے نشانہ بنایا۔ متاثرین کو علاج کے لیے مختلف سرکاری اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں کتے کے کاٹنے کے بعد حفاظتی ویکسین فراہم کی گئی۔

دھوکے کشمیرین کے رہائشی ۲۶ سالہ علی رضا کو گلی سے گزرتے ہوئے آوارہ کتے نے کاٹ لیا۔ انہیں بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں طبی طریقہ کار کے مطابق انہیں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی۔

اسی طرح جناح اسٹریٹ، مورگاہ کے ۱۸ سالہ سعد خالد کو بھی آوارہ کتے نے زخمی کیا، جنہیں بینظیر بھٹو اسپتال میں علاج اور حفاظتی ٹیکہ لگایا گیا۔

وہاڑی سے تعلق رکھنے والے آٹھ سالہ عبدالرحمان کو کتے نے کاٹا، جس کے بعد انہیں ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی۔

دھوکے رتا کے رہائشی ۲۵ سالہ محمد جبار بھی آوارہ کتے کے حملے کا شکار ہوئے۔ انہیں ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال پہنچایا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

دیگر واقعات میں چارسدہ کے علاقے محلہ ملکھیل کے ۶۵ سالہ جہانزیب لال، اسلام آباد کے شاہ اللہ دتہ کے رہائشی ۵۴ سالہ محمد یونس اور گجرات کی تحصیل کھاریاں سے تعلق رکھنے والے ۴۴ سالہ مزمل عثمان کو بھی کتے کے کاٹنے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا۔

تمام متاثرین کو ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کی گئی۔

ماہرین صحت کے مطابق آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں سب سے بڑا خطرہ ریبیز نامی بیماری کا ہوتا ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد زخم کی صفائی اور حفاظتی ویکسین کا بروقت استعمال انتہائی ضروری ہے۔

حالیہ واقعات نے ایک بار پھر شہری علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور ان کے تدارک کے لیے مؤثر انتظامی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے

قومی خبریں سے مزید