Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں اضافہ، عالمی توانائی کی رسد خطرے میں

امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں اضافہ، عالمی توانائی کی رسد خطرے میں

دبئی — امریکا اور ایران نے پیر کے روز ایک دوسرے کے مقابلے میں آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ اور کنٹرول کے دعوے کیے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا کی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کو تیل اور گیس کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔

تازہ حملوں کے سلسلے میں اردن نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائل مار گرائے ہیں۔ اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پیٹرا کے مطابق فوج نے بتایا کہ اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان یا املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔

اردن کے فوجی حکام کے مطابق میزائل حملے کو ناکام بنا دیا گیا، تاہم ایران اس سے قبل اردن کو نشانہ بنانے والے حملے کا دعویٰ کر چکا تھا۔ اردن خطے میں امریکا کے فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے۔

دوسری جانب بحرین اور کویت بھی پیر کی صبح ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔ ان حملوں نے خلیجی ممالک میں تشویش بڑھا دی ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک امریکا کے قریبی اتحادی ہیں اور خطے میں اہم تزویراتی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے جاری فوجی محاذ آرائی نے مشرق وسطیٰ کے استحکام اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

امریکا اور ایران دونوں نے آبنائے ہرمز پر اپنی بالادستی کے دعوے کیے ہیں۔ یہ آبنائے خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے جغرافیائی اثر و رسوخ کے دائرے میں ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی اس آبی راستے کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھنے پر زور دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں طویل بندش یا بڑے پیمانے پر فوجی تصادم پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی قیمتوں، تجارت اور معیشت پر بھی نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

حالیہ حملوں نے سفارتی کوششوں کو بھی مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی یا مذاکرات کے امکانات پہلے ہی غیر یقینی تھے، لیکن نئی فوجی کارروائیوں کے بعد کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عالمی برادری اب خلیج کے اس اہم آبی راستے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے دنیا بھر میں توانائی کی فراہمی کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے

قومی خبریں سے مزید