سوارب ڈالر برآمدات کا دعویٰ کرنے والے گوہر اعجاز کا اعتراف، دو سال بعد بھی برآمدات میں اضافہ نہ ہو سکا، تجارتی خسارہ بڑھ گیا
سابق نگران وفاقی وزیر تجارت اور معروف صنعت کار گوہر اعجاز نے ملکی برآمدات کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ تجارتی خسارہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
گوہر اعجاز نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے ۲۰۲۳ میں برآمدات میں سالانہ دس فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ ان کے مطابق مالی سال ۲۰۲۳-۲۴ میں یہ ہدف حاصل ہوا اور ملکی برآمدات ۳۰ ارب ۹۰ کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، لیکن اس کے بعد گزشتہ دو برسوں میں برآمدات میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
سابق وزیر تجارت کے مطابق موجودہ حکومت برآمدات میں سالانہ دس فیصد اضافے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور اس وقت برآمدات تقریباً ۳۰ ارب ڈالر کے قریب ہیں، جو مالی سال ۲۰۲۳-۲۴ کے مقابلے میں تقریباً ۸۰ کروڑ ڈالر کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ دو برسوں میں برآمدات میں تقریباً ۸ ارب ڈالر اضافے کا موقع ضائع کر چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر برآمدات میں مسلسل دس فیصد سالانہ اضافہ ہوتا تو ملک کی برآمدات ۳۸ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی تھیں۔
گوہر اعجاز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مالی سال ۲۰۲۶ میں برآمدات میں تقریباً سات فیصد کمی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث ملکی تجارت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ گوہر اعجاز نگران حکومت کے دور میں وفاقی وزیر تجارت کی حیثیت سے یہ دعویٰ کرتے رہے تھے کہ پاکستان کی برآمدات کو دو سال میں ۱۰۰ ارب ڈالر تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم موجودہ اعداد و شمار کے حوالے سے ان کا تازہ بیان اس ہدف کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کر رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی برآمدات میں مسلسل اضافہ نہ ہونے کی بڑی وجوہات میں توانائی کی بلند قیمتیں، پیداواری لاگت، عالمی منڈی میں مقابلے کی کمزور صلاحیت، صنعتی پالیسی کے مسائل اور برآمدی شعبے میں محدود تنوع شامل ہیں





