ہانگ کانگ کی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے حصص میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ، ابتدائی سرمایہ کاروں کی پابندیاں ختم ہونے والی ہیں
ہانگ کانگ: ہانگ کانگ میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص آنے والے ہفتوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ نئی فہرست شدہ کمپنیوں کے حصص پر عائد عارضی پابندیاں ختم ہونے جا رہی ہیں، جس کے بعد بڑی تعداد میں حصص مارکیٹ میں دستیاب ہو جائیں گے۔
مالیاتی ادارے یو اسمارٹ کے مطابق پابندیوں کے خاتمے سے بعض سرمایہ کار اپنے منافع کو محفوظ بنانے کے لیے حصص فروخت کر سکتے ہیں، جس سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں ہانگ کانگ میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ابتدائی عوامی پیشکشوں میں تیزی آئی ہے، لیکن اب ان کمپنیوں کے ابتدائی بڑے سرمایہ کاروں کے حصص عام خرید و فروخت کے لیے کھل رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سے مارکیٹ میں دستیاب حصص کی مقدار بڑھے گی اور قلیل مدت میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی نئی کمپنیوں، جن میں ژپُو اے آئی اور منی میکس شامل ہیں، کے حصص پر سرمایہ کاروں کی نظریں ہیں کیونکہ ان کے بڑے حصص کھلنے سے مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ پیدا ہونے کا امکان ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں اصل امتحان ان کمپنیوں کی آمدنی، ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور کاروباری ترقی ہوگی، کیونکہ صرف مصنوعی ذہانت کے رجحان کی بنیاد پر بلند قیمتیں برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ہانگ کانگ کی مارکیٹ کے لیے یہ مرحلہ ایک اہم آزمائش سمجھا جا رہا ہے کہ آیا سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو مستقبل کی ترقی کے مواقع کے طور پر دیکھتے ہیں یا موجودہ بلند قیمتوں پر منافع لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔





