ستّلج فلم زی فائیو سے ہٹا دی گئی، حکومت نے سلامتی کے خدشات کو بنیاد بنایا؛ دلجیت دوسانجھ بولے، ایسا ہونا ہی تھا
فلم ستّلج کو آن لائن تفریحی پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا ہے، جس کے بعد آزادیٔ اظہار، سلامتی کے خدشات اور فنکارانہ آزادی پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے زی فائیو کو ہدایت کی کہ وہ فلم ستّلج کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دے۔ حکام نے یہ اقدام معلوماتی ٹیکنالوجی کے قواعد کے تحت مبینہ سلامتی خدشات کی بنیاد پر کیا۔
یہ کارروائی فلم کے غیر ترمیم شدہ آن لائن اجرا کے بعد کی گئی، جس کے بعد حکام نے اس کے بعض مواد پر اعتراضات ظاہر کیے۔ تاہم حکومت کی جانب سے تفصیلی وجوہات عوامی سطح پر سامنے نہیں لائی گئیں۔
فلم کو ہٹائے جانے کے فیصلے پر سکھ مذہبی ادارے شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور پنجاب کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے فنکارانہ آزادی اور اظہار رائے کے حق پر سوالات اٹھتے ہیں۔
فلم کے مرکزی اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم متوقع تھا۔ ان کے بیان کو بعض حلقوں نے حکومت کے فیصلے پر تنقید جبکہ بعض نے موجودہ صورتحال کا اعتراف قرار دیا۔
ستّلج تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں فلموں، ویب سیریز اور آن لائن مواد سے متعلق حکومتی نگرانی اور آزادیٔ اظہار کے درمیان توازن پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نشر ہونے والے مواد کے حوالے سے حکومتیں سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے خدشات کو اہم قرار دیتی ہیں، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسے فیصلوں میں شفافیت اور واضح اصولوں کی ضرورت ہے





