جنوبی بحرالکاہل میں آبدوز سے میزائل تجربہ، چین کو خطے کے ممالک کی تنقید کا سامنا

جنوبی بحرالکاہل میں آبدوز سے میزائل تجربہ، چین کو خطے کے ممالک کی تنقید کا سامنا

چین نے اپنی بحریہ کی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ جنوبی بحرالکاہل کے علاقے میں کیا گیا جس پر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان نے شدید تحفظات اور احتجاج کا اظہار کیا ہے۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ میزائل مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 1 منٹ پر فائر کیا گیا اور اس میں ایک فرضی وار ہیڈ نصب تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ معمول کی سالانہ عسکری مشقوں کا حصہ تھا، کسی ملک یا ہدف کو نشانہ بنانا مقصود نہیں تھا اور یہ بین الاقوامی قوانین اور روایات کے مطابق کیا گیا۔

چینی وزارتِ دفاع نے بھی اس بیان کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ دفاعی تیاری اور تربیتی سرگرمیوں کے سلسلے میں کیا گیا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ چین نے بحرالکاہل میں اس نوعیت کا تجربہ کیا ہو۔ دو سال قبل بھی چین نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو بین الاقوامی پانیوں میں کیا گیا اور اس میں بھی فرضی وار ہیڈ استعمال ہوا تھا۔ اس سے قبل 1980 کی دہائی کے بعد اس خطے میں اس نوعیت کا کوئی بڑا میزائل تجربہ نہیں کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ تجربہ چین کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت اور عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت کے طور پر اس کے کردار کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جیسا کہ اسی نوعیت کے تجربات امریکہ بھی اپنی میزائل افواج کے ساتھ کرتا ہے۔

تاہم آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے تجربات خطے کے امن اور سلامتی کے لیے حساس نوعیت رکھتے ہیں اور ان سے اعتماد کے ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید