دشمنی کے سائے میں مذاکرات کی اپیل — مگر امن کی راہ اب بھی بند، ڈان نیوز
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ سفارتی کشیدگی کے تناظر میں سول سوسائٹی کی جانب سے امن مذاکرات کی اپیل ایک مثبت مگر کمزور کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔
دونوں ممالک کے دانشوروں، سابق سفارتکاروں، سیاست دانوں اور امن کے حامی افراد سمیت 100 سے زائد دستخط کنندگان نے اس اپیل میں مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں اعتماد سازی کے اقدامات بحال کیے جائیں اور مکمل سفارتی تعلقات کو دوبارہ فعال کیا جائے۔
اداریے کے مطابق برصغیر میں پائیدار امن کی ضرورت سے کوئی بھی معقول ذہن انکار نہیں کر سکتا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات کی بحالی ہمیشہ دو طرفہ آمادگی کی محتاج ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برسوں میں تعلقات مسلسل تنزلی کا شکار رہے ہیں، خاص طور پر 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد پاکستان نے سفارتی سطح پر تعلقات محدود کیے، جبکہ بعد ازاں مختلف واقعات اور کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلہ مزید بڑھا دیا۔
اداریہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ امن کی کوششیں موجود ہیں، لیکن اعتماد کے فقدان اور سیاسی تنازعات نے مذاکرات کی راہ کو پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث خطہ اب بھی “دشمنی اور بات چیت” کے درمیان جھول رہا ہے





