ایسا وفاقی وزیر “چوہدری سالک “جو بولے تو جہاں حیرت سے تکتا ہے کہ “ یہ بھی بولتا ہے “ آج پھر بول پڑا
وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین جو اپنے والد چوہدری شجاعت حسین کی طرح بولنے سے پرہیز و گریز ہی نہیں کرتے بلکہ کہا جاتا ہے انکے یہاں بولنا ایک حرام بیماری ہے اسی لیے اسٹیبلشمنٹ نے انہیں اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت دی ہے جو بیچارے صرف روٹی کماتے ہیں یا تھک کے سو جاتے ہیں بولنے سے وہ خود بھی پرہیز و گریز ہی کرتے ہیں اور اسی لیے اوورسیز پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت کو یہ بھی معلوم نہیں انکے معاملات کی دیکھ بھال کے لیے کوئ وزارت بھی ہے ، چوہدری سالک نے قیام پاکستان کے وقت سے اوورسیز پاکستانی وزیر کے لیے تیار شدہ اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور حکومت ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے” اوورسیز وزارت کے تیار کردہ اس بیان میں مذید لکھا ہے
“ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ اوورسیز پاکستانیوں کو استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد اور دیگر سہولیات سے متعلق درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی”
یہ بات وفاقی وزیر نے پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن (اے پی ڈی اے) کے چیئرمین میاں شعیب احمد کے ہمراہ اوورسیز پاکستانیوں کے وفد سے ملاقات کے موقع پر کی۔
اس موقع پر میاں شعیب احمد نے وفاقی وزیر سے ملاقات کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کو ذاتی استعمال کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔
میاں شعیب احمد نے مطالبہ کیا کہ ذاتی استعمال کے لیے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر عائد ایک سالہ نان ٹرانسفر شرط کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ شرط اوورسیز پاکستانیوں کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف 3 سال پرانی گاڑی درآمد کرنے کی پابندی بھی ختم ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق جب کمرشل درآمد کنندگان کو پری شپمنٹ انسپیکشن (پی ایس آئی) کے تحت کسی بھی سال اور ماڈل کی گاڑی درآمد کرنے کی اجازت ہے تو پھر اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ مختلف سلوک کی کوئی منطق نہیں بنتی۔
انہوں نے یہ مطالبہ بھی پیش کیا کہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کو صرف اپنے رہائشی ملک سے گاڑی لانے کی پابندی ختم کی جائے اور انہیں دائیں جانب اسٹیئرنگ رکھنے والے کسی بھی ملک سے گاڑی خرید کر پاکستان لانے کی اجازت دی جائے۔
میاں شعیب احمد نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جو ترسیلات زر کے ساتھ ساتھ درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں بھی قومی خزانے میں بھاری زرمبادلہ جمع کراتے ہیں، لہٰذا انہیں مزید سہولیات اور مراعات فراہم کی جانی چاہئیں۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے اے پی ڈی اے کے چیئرمین کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مطالبات کا نوٹس لیتے ہوئے ہمیشہ سے تیار شدہ جواب وفد کے اراکین کو مسکرا مسکرا کر بار بار پڑھکر سنایا جس میں تین چار لفظ ہی لکھے ہیں کہ “آپ کو یقین دہانی کروائی جاتی ہے کہ ان مسائل کو حکومت کے اعلیٰ فورمز پر اٹھایا جائے گا اور ان کے حل کے لیے جلد عملی اقدامات کیے جائیں گے، یہاں یہ امر دلچسپی سے ہرگز خالی نہیں اوورسیز پاکستانی جو پاکستانی معشیت کی ریڑھ ہی نہیں سانس بھی ہیں اور جو سالانہ چالیس ارب ڈالر سے زائد ملکی خزانے میں جمع کرتے ہیں انکے مذکورہ مسائل ہر دور میں جوں کے توں رہتے ہیں یا ان میں مذید ایک دو نئے مسائل کا اضافہ کردیا جاتا ہے ، پاکستان کے صحافتی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ریاست عوامی سطح کے کسی مسئلے کو حل کرنے کی بجائے انگریز کی غلامی کے دور کی طرح الجھا کے رکھنے پر یقین رکھتی ہے تاکہ ہر طبقے ہائے زندگی کے لوگوں کو مصروف رکھا جائے تاکہ وہ ریاستی پالیسیوں اور معاملات پر توجہ دینے پر غور ہی نہ کرسکیں





