مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں نئی تبدیلی، سرمایہ اب ٹیکنالوجی ساز اداروں سے ہٹ کر چپ بنانے والی کمپنیوں کا رخ کرنے لگا

مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں نئی تبدیلی، سرمایہ اب ٹیکنالوجی ساز اداروں سے ہٹ کر چپ بنانے والی کمپنیوں کا رخ کرنے لگا

امریکہ کے معروف مالیاتی تجزیہ کار جم کریمر کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں سرمایہ کاری کا رجحان تبدیل ہو رہا ہے، اور اب سرمایہ کار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بجائے اُن اداروں کو ترجیح دے رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے لیے درکار چپس اور بنیادی پرزے تیار کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق اگرچہ وہ اب بھی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کو اہم سمجھتے ہیں، تاہم موجودہ مرحلے میں سب سے زیادہ فائدہ اُن کمپنیوں کو پہنچنے کا امکان ہے جو مصنوعی ذہانت کے لیے یادداشتی چپس، برقی پرزے اور دیگر بنیادی ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مصنوعی ذہانت پر ہونے والے کھربوں ڈالر کے متوقع اخراجات کا بڑا حصہ اب انہی چپ ساز کمپنیوں کی آمدنی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ بھی تیزی سے اسی شعبے کی جانب منتقل ہو رہی ہے

قومی خبریں سے مزید