امریکہ میں عارضی تحفظ یافتہ تارکینِ وطن پر دباؤ، مستقل حیثیت لینے یا ملک چھوڑنے کی ہدایت

امریکہ میں عارضی تحفظ یافتہ تارکینِ وطن پر دباؤ، مستقل حیثیت لینے یا ملک چھوڑنے کی ہدایت
واشنگٹن: امریکہ کی داخلی سلامتی کے سیکریٹری مارک وین ملن نے کہا ہے کہ عارضی تحفظ کی حیثیت کے تحت رہنے والے تارکینِ وطن کو یا تو مستقل رہائشی حیثیت کے لیے درخواست دینی چاہیے یا پھر ملک چھوڑ دینا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بعد ہزاروں تارکینِ وطن کی قانونی حیثیت متاثر ہوئی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں مبینہ طور پر 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد سے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی حفاظتی حیثیت واپس لی گئی ہے۔
امریکی میڈیا پروگرام اسٹیٹ آف دی یونین میں گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری نے کہا کہ موجودہ قانونی صورتحال کے مطابق متاثرہ افراد کو اپنے مستقبل کے بارے میں واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے خاص طور پر ہیٹی اور شام جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہو سکتے ہیں، جہاں سیاسی عدم استحکام، تنازعات اور معاشی بحران کی صورتحال برقرار ہے۔

انسانی حقوق کے بعض حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے افراد کو ان ممالک میں واپس بھیجنا خطرناک ہو سکتا ہے جہاں ان کی جان و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ امیگریشن نظام کو قانونی اور منظم بنانا ضروری ہے۔

یہ معاملہ امریکہ میں امیگریشن پالیسی اور عدالتی فیصلوں کے درمیان جاری کشیدگی کا ایک اور اہم پہلو بن گیا ہے، جو آئندہ مہینوں میں سیاسی بحث کا مرکزی موضوع رہنے کا امکان ہے

قومی خبریں سے مزید