ایران جنگ کے پس منظر میں ٹرمپ کا طاقت سے متعلق بیان، “میری اختیارات کی کوئی حد نہیں” — سیاسی حلقے حیران

ایران جنگ کے پس منظر میں ٹرمپ کا طاقت سے متعلق بیان، “میری اختیارات کی کوئی حد نہیں” — سیاسی حلقے حیران

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اپنی صدارتی طاقت پر کسی قسم کی حدود نظر نہیں آتیں، جس کے بعد واشنگٹن کی سیاسی فضا میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

اے ایکسیوس کے صحافی اور سی بی ایس نیوز کے تجزیہ کار مارک کیپوٹو سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران جنگ کے پس منظر میں اپنی فیصلہ سازی کو کسی قانونی یا ادارہ جاتی رکاوٹ کے تابع نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں صدر کی طاقت وسیع تر ہے اور اتحادی ریاستیں بھی امریکی پالیسی کے مطابق چلتی ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران کے ساتھ جاری تنازع نے امریکی خارجہ پالیسی کو ایک حساس مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس مؤقف کو ان کے حامی فیصلہ کن قیادت کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جبکہ ناقدین اسے اختیارات کے ممکنہ حد سے تجاوز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی نظام میں صدر کے اختیارات آئین اور کانگریس کے ذریعے متوازن کیے جاتے ہیں، لیکن ٹرمپ کے حالیہ ریمارکس نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ ہنگامی حالات میں ایگزیکٹو پاور کی حد کہاں تک جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان نہ صرف اندرونی امریکی سیاست بلکہ عالمی سطح پر اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات اور طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے

قومی خبریں سے مزید