مصنوعی ذہانت کی بھوک نے دنیا کو نئی بحران گاہ میں دھکیل دیا، برقی یادداشت کی قلت سے ٹیکنالوجی کی دنیا لرز اٹھی
دنیا ایک ایسے خاموش مگر خطرناک بحران کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں عام صارفین سے لے کر بڑی صنعتوں تک ہر شعبے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جدید برقی آلات میں استعمال ہونے والی یادداشت کی چپس کی شدید قلت نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا فوری حل تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے نظاموں نے یادداشت کی چپس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ بڑے معلوماتی مراکز اور خودکار ذہانت پر کام کرنے والی کمپنیاں اربوں ڈالر خرچ کرکے ان چپس کی خریداری کر رہی ہیں، جس کے باعث عام برقی آلات بنانے والی کمپنیوں کو مطلوبہ مقدار میں سامان دستیاب نہیں ہو رہا۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں یادداشت کی جدید چپس تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کی تعداد انتہائی محدود ہے۔ نئی پیداواری تنصیبات قائم کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور کئی برسوں کا وقت درکار ہوتا ہے، اس لیے طلب اور رسد کے درمیان بڑھتا ہوا فرق فوری طور پر ختم ہونا ممکن نہیں۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ چند برس قبل چپس کی قیمتوں میں شدید کمی کے باعث پیداوار کنندگان کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا، جس کے بعد اب وہ پیداوار میں تیزی سے اضافہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں قلت کے باوجود نئی سرمایہ کاری محتاط انداز میں کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی اور گہری کشیدگی بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ بعض ممالک میں پیداوار بڑھنے کے باوجود سیاسی اور تجارتی پابندیاں عالمی رسد کے نظام کو متاثر کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کی صنعتوں کو متبادل ذرائع تلاش کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر جدید برقی آلات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعض کمپنیوں کو اپنے آلات میں کم گنجائش والی یادداشت استعمال کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحران صرف ایک صنعتی مسئلہ نہیں بلکہ آنے والے دور کی معیشت، ٹیکنالوجی اور عالمی مسابقت پر اثرانداز ہونے والا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس کے اثرات کئی برس تک محسوس کیے جا سکتے ہیں





