ٹرمپ نے قطر کے تحفے میں ملنے والے نئے صدارتی طیارے کی رونمائی کر دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں اس نئے طیارے کی رونمائی کی جو قطر کی جانب سے فراہم کردہ ایک تبدیل شدہ بوئنگ 747 ہے اور جلد ہی عارضی طور پر “ایئر فورس ون” کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
یہ طیارہ اصل میں قطر کا ایک انتہائی پرتعیش بوئنگ 747-8 تھا، جس کی مالیت تقریباً 40 کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اسے امریکی صدارتی معیار کے مطابق بنانے کے لیے سیکیورٹی، مواصلاتی نظام اور دفاعی حفاظتی آلات سے لیس کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے امیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکہ کو بھی دنیا کے دیگر رہنماؤں کی طرح جدید ترین سرکاری طیارے استعمال کرنے چاہییں۔ انہوں نے اس جہاز کو دنیا کے سب سے پرتعیش طیاروں میں سے ایک قرار دیا۔
یہ نیا طیارہ اس وقت تک صدارتی پروازوں کے لیے استعمال ہوگا جب تک امریکی کمپنی Boeing کے تیار کردہ نئے سرکاری ایئر فورس ون طیارے 2027 اور 2028 میں فراہم نہیں ہو جاتے۔ موجودہ منصوبہ تاخیر اور لاگت میں اضافے کا شکار رہا ہے، جس کے باعث ٹرمپ انتظامیہ نے اس عبوری حل کا انتخاب کیا۔
تاہم اس طیارے کی قبولیت پر شدید سیاسی اور قانونی بحث بھی جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی حکومت کی جانب سے اتنا قیمتی تحفہ قبول کرنا مفادات کے ٹکراؤ اور آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے، جبکہ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے فائدہ مند اور قانونی اقدام ہے۔
امریکی فضائیہ کے مطابق یہ طیارہ جلد صدارتی بیڑے کا حصہ بن جائے گا اور آئندہ بڑے سرکاری دوروں اور تقریبات میں استعمال کیا جا سکے گا۔





