کیا ایران جنگ عالمی تیل کی طلب کو ہمیشہ کے لیے ختم کر رہی ہے؟” — توانائی مارکیٹ میں ہلچل، بڑے سوالات کھڑے ہو گئے
لندن / واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں ایران جنگ کے جاری اثرات نے عالمی توانائی منڈیوں میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے، جہاں ماہرین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ بحران عالمی سطح پر تیل کی طلب (oil demand) کو مستقل طور پر بدل رہا ہے؟
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) اور دیگر مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کے باعث نہ صرف تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے بلکہ اب پہلی بار عالمی طلب میں بھی واضح کمی کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق 2026 میں عالمی تیل کی کھپت میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں میں غیر معمولی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں بلند قیمتوں، سپلائی کی کمی اور ٹرانسپورٹ نظام میں رکاوٹوں کے باعث ایوی ایشن، ٹرانسپورٹ اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے، جس نے تیل کی طلب کو دبا دیا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق کچھ ممالک میں پبلک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے استعمال، ایندھن کی بچت کی پالیسیوں اور متبادل توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی نے بھی اس رجحان کو تقویت دی ہے۔ اسی دوران امریکہ، چین اور یورپ میں بھی تیل کی درآمدات اور استعمال میں غیر متوقع کمی رپورٹ ہو رہی ہے۔
تاہم ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ یہ تبدیلی مستقل ہے۔ ایک رائے کے مطابق یہ “عارضی معاشی جھٹکا” ہے جو جنگ ختم ہونے کے بعد بحال ہو سکتا ہے، جبکہ دوسری رائے اسے “ساختی تبدیلی” قرار دیتی ہے جو مستقبل میں تیل کی عالمی طلب کے عروج کو محدود کر سکتی ہے۔
دوسری جانب سپلائی بحران اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس سے قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ اور توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال طویل ہوئی تو یہ نہ صرف تیل کی قیمتوں بلکہ عالمی معیشت، افراطِ زر اور توانائی کے مستقبل کے نقشے کو بھی مکمل طور پر بدل سکت





