شی جن پنگ کا شمالی کوریا کا دورہ: چین اثر و رسوخ بحال کرنے کی بڑی کوشش میں

شی جن پنگ کا شمالی کوریا کا دورہ: چین اثر و رسوخ بحال کرنے کی بڑی کوشش میں

چین کے صدر شی جن پنگ سات سال بعد پہلی بار شمالی کوریا کا دورہ کرنے جا رہے ہیں، جسے ماہرین بیجنگ کی جانب سے خطے میں اپنا کھویا ہوا اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کرنے کی اہم کوشش قرار دے رہے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی طاقتوں کے درمیان ایشیا پیسیفک خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اس سربراہی ملاقات کو معاشی رعایتیں حاصل کرنے اور ممکنہ طور پر چین سے اپنے جوہری پروگرام کی “خاموش یا غیر رسمی قبولیت” جیسے مطالبات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، جیسا کہ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے۔بیجنگ اس ملاقات کے ذریعے چند اہم اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرے گا

  • شمالی کوریا کو تائیوان کے معاملے پر چین کے مؤقف کے ساتھ ہم آہنگ کرنا
  • جاپان کی بڑھتی ہوئی دفاعی سرگرمیوں اور فوجی مضبوطی کے خلاف ایک مشترکہ موقف بنانا
  • خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنا
  • شمالی کوریا کو دوبارہ اپنے دائرہ اثر میں مضبوطی سے شامل کرنا

چین کے لیے یہ دورہ صرف سفارتی نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست (جیو پولیٹکس) کے ایک بڑے کھیل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ چین کے صدر کا تقریباً سات ماہ میں پہلا غیر ملکی دورہ ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ بیجنگ اب محدود سفارتی سرگرمیوں کے باوجود انتہائی اہم اور حساس ملاقاتوں کو ترجیح دے رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق چین کا یہ قدم اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر روس کے قریب جانے سے روکنا چاہتا ہے، جبکہ خود کو اس خطے میں مرکزی طاقت کے طور پر برقرار رکھنا بھی اس کی ترجیح ہے
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے بڑھتے ہوئے دفاعی اتحاد کے مقابلے میں چین اور شمالی کوریا کی یہ قربت ایک نئے بلاک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ تاہم یہ تعلق ہمیشہ سے پیچیدہ رہا ہے—چین شمالی کوریا کو سپورٹ بھی کرتا ہے اور اس کے غیر متوقع اقدامات سے محتاط بھی رہتا ہے

قومی خبریں سے مزید