اگر کوئی غیر ملکی شہری پاکستان کے بارے میں رائے بنانا چاہے اور اس کا ذریعہ صرف امریکہ، کینیڈا، یورپ یا آسٹریلیا میں ہونے والے پاکستانی فنکشنز ہوں، تو وہ یقیناً یہ نتیجہ نکالے گا کہ پاکستان ایک انتہائی “منظم، محدود اور کنٹرولڈ کمیونٹی” ہے، جس میں شاید چار قسم کے لوگ ہی پائے جاتے ہیں: مقررین جو سامعین بھی ہیں، فوٹوگرافر اور ہمیشہ موجود وہی چہرے، وہ بھی ایک مخصوص علاقے مخصوص زبان کے لوگ پاکستان ڈے 14 اگست ہو، 23 مارچ ہو یا کسی سفارتی دورے کا کوئی خصوصی عشائیہ… منظر ذرا بھی نہیں بدلتا، بس بینر بدل جاتے ہیں، کرسیاں ترتیب بدل لیتی ہیں، اور باقی سب کچھ ویسا ہی رہتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اوورسیز پاکستانی کمیونٹی میں “رجسٹرڈ گیسٹ لسٹ” کے علاوہ کسی اور کو داخلے کی اجازت ہی نہیں، اور اگر کوئی نیا چہرہ آ بھی جائے تو اسے ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ پاکستان سے نہیں بلکہ “غلط تقریب” سے آ گیا ہو اب ذرا ان تقریبات کا نقشہ ذہن میں لائیں، اسٹیج سجا ہے، پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہے، قومی ترانہ بج رہا ہے، اور ہال میں بیٹھے لوگ… ہاں، وہی لوگ، وہی چہرے جو پچھلے سال بھی تھے، اس سے پچھلے سال بھی اور اس سے پچھلے سال بھی، اور بعض تو اتنے مستقل ہیں کہ لگتا ہے شاید ان کے نام کے ساتھ “فری لانس پاکستانی نمائندہ” لکھا جاسکتا ہے، امریکی سیاستدان آئے یا کوئی مغربی سفارتکار، تصویریں کھنچتی ہیں، تقاریر ہوتی ہیں، “پاک امریکہ دوستی زندہ باد” کے نعرے لگتے ہیں، اور پھر سب اپنے اپنے گروپ فوٹو میں ایسے فٹ ہو جاتے ہیں جیسے یہ کوئی قومی تقریب نہیں بلکہ “پرانا فیملی ری یونین” ہو جس میں صرف وہی رشتہ دار آتے ہیں جن کی فیس بک آئی ڈی محفوظ ہو دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے یہی مخصوص حلقے نہ صرف یہاں تقریبات کے میزبان ہوتے ہیں بلکہ پاکستان میں کاروباری تعلقات، سیاست، اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہونے کا تاثر بھی رکھتے ہیں، اور یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کی اندرونی اور بیرونی نمائندگی کا ایک ہی “فرنچائز ماڈل” چل رہا ہے، جس میں برانچیں مختلف ہیں مگر مینو ایک ہی ہے اب اصل سوال یہ ہے کہ باقی پاکستانی کہاں ہیں؟ یعنی وہ سندھی، وہ بلوچ، وہ پشتون، وہ سرائیکی، وہ لوگ جو پاکستان کے ہر خطے کی پہچان ہیں… وہ ان تقریبات میں کیوں نظر نہیں آتے؟ کیا انہیں دعوت نامے نہیں ملتے، یا پھر دعوت نامہ صرف “پہلے سے موجود نیٹ ورک” کے لیے مخصوص ہے؟ اگر کسی تقریب میں سو دو دوسو لوگ ہوں تو اکثر تاثر یہ ملتا ہے کہ پونے دو سو لوگ ایک ہی جغرافیائی یا سماجی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں، اور باقی پچیس میں سے بھی آدھے وہ ہیں جو “نئے آئے ہوئے پرانے دوست” ہیں، اس سے باہر نکل کر دیکھیں تو پاکستان کا وہ رنگا رنگ چہرہ، جس کا دعویٰ ہم دنیا کے سامنے کرتے ہیں، وہاں کہیں نظر نہیں آتا، اور اس مخصوص مجمعے میں بھی خوشبو لگانے سونگھنے چکھنے کو چند مخصوس خواتین، مجھے یاد بروکلن سے مرحوم سیاہ فام کانگریس نے ایک بار کہا تھا، پاکستانی کمیونٹی کی تقریبات میں جائیے تو لگتا ہے خواتین ابھی انسان تسلیم نہیں کی گئیں اور اسی طرح اقوام متحدہ میں کام کرنے والی ایک نوجوان پاکستانی لڑکی نے کہا تھا “پاکستان واپسی پر ایرپورٹ پر اترتے ہی پہلا خیال آتا ہے، یہ ملک صرف مرد آبادی پر مشتمل ہے پاکستان ڈے پریڈز ہوں یا کوئ بھی قومی تہوار یہی کہانی دہرائی جاتی ہے، جھنڈے لہراتے ہیں، تقریریں ہوتی ہیں، اور پھر وہی مخصوص گروہ اسٹیج کے قریب بیٹھا نظر آتا ہے، باقی کمیونٹی کہاں ہے، کسی کو کچھ اول تو پتہ نہیں، جنہیں پتہ ہے وہ نہ بتانے کو تیار ہیں نہ گمشدہ لاتعلق افراد کو بلانے پر تیار، یہاں تک کے امریکی سیاسی حکومتی نظام میں پاکستان کی لابنگ سے چندہ مانگنے، کشمیر پر تماشا لگانے تک وہ کونسا کام ہے جو ایک مخصوص گروہ کو لیز نہیں کردیا گیا ہے مزاحیہ بات یہ ہے کہ بار بار یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ “ہم کمیونٹی کو متحد کر رہے ہیں”، مگر یہ اتحاد اتنا خاص ہے کہ اس میں نئے لوگ شامل ہونے کے لیے پہلے سے موجود لوگوں کی “اجازتِ موجودگی” ضروری ہوتی ہے سفارتکار بھی اس نظام کا حصہ ہیں، وہی چہرے، وہی تنظیمیں، وہی فنڈ ریزنگ ڈنر، وہی تقریریں، اور وہی فوٹو سیشن، یوں لگتا ہے جیسے سفارتکاری نہیں بلکہ “ایونٹ مینجمنٹ سبسکرپشن” چل رہی ہو، جس میں ہر سال مواد تقریباً ویسا ہی ری سائیکل ہوتا ہے، اس صورت حال کو دیکھ کر یقین کرنے کے سوا کوئ اور چارہ نہیں پاکستانی بیوروکریسی کے ہر طبقے نے حلف ہی کام نہ کرنے کا لیا ہے اب مسئلہ یہ نہیں کہ کون طاقت میں ہے یا کون اثر و رسوخ رکھتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کا بیرونی چہرہ ایک محدود فریم میں بند ہو کر رہ گیا ہے، اور وہ فریم اتنی بار بار دکھایا گیا ہے کہ اب خود اس کے اندر موجود لوگ بھی شاید سوچتے ہوں کہ “کیا واقعی پاکستان اتنا ہی چھوٹا ہے یا ہم نے اسے چھوٹا کر دیا ہے؟” اور سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جب پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر رائے بنتی ہے تو وہ انہی محدود چہروں، انہی محدود تقریبات، اور انہی محدود بیانیوں سے بن رہی ہوتی ہے، جبکہ اصل پاکستان کہیں اور، کہیں زیادہ وسیع اور کہیں زیادہ متنوع ہے لیکن شاید مسئلہ یہی ہے، تنوع دکھانے کے لیے تنوع کو دعوت دینا پڑتی ہے، اور دعوت دینے کے لیے ذہن کو بھی اپڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔ اور اپڈیٹ… اکثر وہی چیز ہے جو برسوں سے “پینڈنگ” پڑی ہوتی ہے اور یوں ہر پاکستان ڈے، ہر 14 اگست، ہر 23 مارچ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جھنڈا تو سب کا ہے، مگر کیمرے کے سامنے جگہ ہمیشہ مخصوص ہوتی ہے اور اسی مخصوصیت میں پورا تاثر یہ بنتا ہے کہ شاید پاکستان ایک ملک نہیں، بلکہ ایک بہت پرانا، مگر بہت منظم “انویٹیشن لسٹ سسٹم” ہے… جس میں نام بدلتے نہیں، صرف تاریخ بدلتی ہے، اب اصل مسئلہ یہ ہے جب یہ دہائیوں سے رات دن قومی تہواروں سے سیاسی سماجی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی دائمی رخصتی ہوجائے گی کہ بقول اطہر نفیس کے “وہ اگلا موڑ جدای کا اسے آنا ہے وہ تو آئے گا، پھر۔۔ پھر کیا ہوگا؟۔۔ کیونکہ ہم نئی نسل کو تو پاس بھی پھٹکنے نہیں دیتے نہ اب وہ نئی نسل خود پاکستان کے معاملات میں کوئ دلچسپی رکھتی ہے ہاں انڈین میوزک ناچ گانا کھانا ہو تو ہلے گلے کے لیے۔۔۔ خیر اگر ہمارے سفارت کار اپنے حلف سے انحراف کرتے ہوئے ہل جلُ کریں تو کچھ نہ کچھ چہرے تو بدل سکتے ہیں، چند سندھی چند پشتون اور ڈیڑھ دو ہزار فٹ گہرائی سے ایک دو بلوچ جو پاکستان کی وحدت پر تھوڑا بہت یقین رکھتے ہونگے، کھود کے نکالے ہی جاسکتے ہیں۔۔۔ مگر اتنی محنت اتنی کوشش ایسی تگ و دو کی امید۔۔۔ پاکستانی سرکاری افسر سے کہ “کم جوان دی موت ہے”





