ایران حالیہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تنازعے کے بعد اپنی جوہری صلاحیت میں کس حد تک پیچھے ہٹا ہے۔ اس پر بحث جاری ہے۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تہران کے پاس ایک ’ڈرٹی بم‘ (ریڈیائی ہتھیار) بنانے کے لیے کافی جوہری مواد موجود ہے۔
امریکی دفاعی امور کے سابق اہلکار اور امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ کے سینئر فیلو مائیکل روبن نے اپنے حالیہ مضمون میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے دھمکی آمیز بیانات پر عمل درآمد کرنا چاہیں تو اُن کا اگلا قدم اسرائیل کے شہری علاقوں پر ریڈیائی بم برسانا ہو سکتا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر تابکاری پھیلائی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورینیم جیسے مواد سے بم تیار کرنا ایران کے لیے مشکل نہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا تہران کو واقعی اس قسم کے ہتھیار کے استعمال کی اسٹریٹیجک ضرورت محسوس ہوتی ہے؟
ریڈیائی بم یا ’ڈرٹی بم‘ ایک ایسا ہتھیار ہوتا ہے جو دھماکے کے ساتھ ساتھ جوہری مادوں کو فضاء میں پھیلا کر طویل مدتی تباہی اور انسانی صحت پر مہلک اثرات ڈال سکتا ہے تاہم یہ ایک مکمل جوہری بم جتنی تباہی نہیں مچاتا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ایران کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے مگر اس کا استعمال عالمی سطح پر شدید ردعمل اور ایران پر مزید سخت پابندیوں کا سبب بن سکتا ہے، جس کا تہران کو بخوبی ادراک ہے۔





