عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی میں تشویش، بلڈ پریشر 192 تک پہنچنے کی اطلاعات،
پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی کمیٹی نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر فوری اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے
پی ٹی آئی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا جو رات گئے تک جاری رہا اجلاس میں عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر غور کیا گیا پارٹی کے مطابق عمران خان کا بلڈ پریشر حال ہی میں 192 تک پہنچنے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں
اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولتوں کی عدم فراہمی، اہل خانہ اور ذاتی معالجین تک رسائی میں رکاوٹوں اور علاج کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے کمیٹی کو عمران خان اور ان کے وکیل سلمان صفدر کی حالیہ ملاقات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی
مرکزی کمیٹی نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ عمران خان کی صحت اور زندگی کا تحفظ فوری انسانی مسئلہ ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت، تاخیر یا غیر ذمہ داری قابل قبول نہیں پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کی صحت کو محض سیاسی یا قانونی تنازع کے بجائے ایک سنگین طبی اور انسانی ہنگامی صورت حال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے
پی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو ان تک فوری اور بلا رکاوٹ رسائی دی جائے، ان کے تمام ضروری طبی معائنے اور تشخیصی ٹیسٹ بلا تاخیر کرائے جائیں اور انہیں مکمل طبی معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے
پارٹی نے کہا کہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے مسلسل خدشات سامنے آ رہے ہیں، اس لیے مزید تاخیر ناقابل قبول ہوگی
مرکزی کمیٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی اپیل کی کہ عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے فوری توجہ دی جائے کمیٹی کے مطابق عدالتی فیصلوں پر عمل کرنا حکومت اور متعلقہ انتظامی اداروں کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت پہلو تہی نہیں کی جا سکتی
پی ٹی آئی نے پاکستان کے عوام اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی اپیل کی کہ عمران خان کی صحت اور زندگی کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کریں اور اس معاملے کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے
پارٹی نے اپنے ارکان پارلیمنٹ، تنظیمی عہدیداروں اور کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ عمران خان کی صحت، علاج اور حقوق کا معاملہ قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور دیگر متعلقہ فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھائیں
اجلاس میں جیل میں قید پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی صحت پر بھی تشویش ظاہر کی گئی پارٹی کے مطابق جیل میں گرنے کے واقعے کے بعد ان کی طبی حالت متاثر ہوئی ہے کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرکے مکمل طبی معائنہ اور ضروری علاج فراہم کیا جائے
عمران خان کی صحت کا معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا تھا جب جنوری 2026 کے آخر میں ان کی دائیں آنکھ میں خون کی شریان بند ہونے کی بیماری سامنے آئی اس بیماری کو طبی اصطلاح میں رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں متعدد مرتبہ اسپتال لے جایا گیا
18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے عدالت نے ان کے علاج کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی علاج کے عمل سے منسلک رکھنے کی ہدایت کی تھی
اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کو جیل میں مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاہم رپورٹ کے ساتھ منسلک طبی دستاویزات میں ڈاکٹر اختر علی بندیشہ کے معائنے کا ذکر تھا، جنہوں نے یکم اگست کو عمران خان کے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، دل کی دھڑکن تیز ہونے، سر درد اور بے چینی کی شکایت درج کی تھی
10 اگست کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے بھی ان کا معائنہ کیا تھا بورڈ نے روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی، جیل کے معمولات میں نرمی، اخبارات، رسائل، ٹیلی ویژن اور کتابوں تک رسائی کی سفارش کی تھی۔ اس کے علاوہ اہل خانہ اور اہلیہ سے زیادہ ملاقاتوں کو بھی ان کی ذہنی کیفیت اور بلڈ پریشر کے لیے مفید قرار دیا گیا تھا
تاہم پی ٹی آئی کے مطابق سپریم کورٹ کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر مکمل عمل نہیں ہوا حکومت عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے گئی اور معائنے کے بعد واپس جیل منتقل کر دیا
اس وقت وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسپتال کے راستے اور باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورت حال کے باعث منتقلی کا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا پی ٹی آئی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے حکومت پر عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا
اب پی ٹی آئی کی مرکزی کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی موجودگی میں مکمل طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے دوسری جانب جیل انتظامیہ کی سابقہ رپورٹ میں مناسب طبی سہولتوں کی فراہمی کا دعویٰ کیا گیا تھا بلڈ پریشر 192 تک پہنچنے کی تازہ اطلاع بھی فی الحال پارٹی کی جانب سے سامنے آئی ہے، اس کی آزادانہ طبی تصدیق یا سرکاری میڈیکل رپورٹ عام نہیں کی گئی






